خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 97
خطبات مسرور جلد 15 97 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 03 مارچ 2017 کرتے ہیں اور اس طرح سے خدا تعالیٰ کے اصل منشا سے دُور جا پڑتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے اگر چہ بعض اشیاء جائز تو کر دی ہیں مگر اس سے یہ مطلب نہیں ہے کہ عمر ہی اس میں بسر کی جاوے۔خدا تعالیٰ نے تو اپنے بندوں کی صفت میں فرماتا ہے يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَ قِيَامًا۔(الفرقان: 65 ) کہ وہ اپنے رب کے لئے تمام رات سجدہ اور قیام میں گزارتے ہیں۔اب دیکھو رات دن بیویوں میں غرق رہنے والا خدا تعالیٰ کے منشا کے موافق رات کیسے عبادت میں کاٹ سکتا ہے وہ بیویاں کیا کرتا ہے گویا خدا کے لئے شریک پیدا کرتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نو بیویاں تھیں اور باوجود ان کے آپ ساری ساری رات خدا تعالیٰ کی عبادت میں گزارتے تھے۔پھر آپ نے فرمایا کہ "خوب یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ کا اصل منشا یہ ہے کہ تم پر شہوات غالب نہ آویں اور تقویٰ کی تکمیل کے لئے اگر ضرورت حقہ پیش آوے تو اور بیوی کر لو " دوسری شادی کرنا بھی تقویٰ کی وجہ سے ہے۔پس یہ شادی جائز ہے اور یہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے ان سب کو جو دوسری شادیاں کرنے کی خواہش رکھتے ہیں کہ شادی تقویٰ کی بنیاد پر ہے یا نفسانی جذبات کی وجہ سے۔پھر آپ نے فرمایا " پس جاننا چاہئے کہ جو شخص شہوات کی اتباع سے زیادہ بیویاں کرتا ہے وہ مغز اسلام سے دُور رہتا ہے۔ہر ایک دن جو چڑھتا ہے اور رات جو آتی ہے اگر وہ تلخی سے زندگی بسر نہیں کرتا اور رو تا کم یا بالکل ہی نہیں روتا " اور ہنستا زیادہ ہے " تو یاد رہے کہ وہ ہلاکت کا نشانہ ہے۔" (ملفوظات جلد 7 صفحہ 65 تا 67) پھر آپ نے عورتوں کو بھی نصیحت فرمائی کہ اگر مرد جائز ضرورت سے شادی کرنا چاہے تو پھر شور نہیں مچانا چاہئے۔لیکن آپ نے یہ بھی فرمایا کہ یہ تمہیں حق ہے کہ دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ یہ مشکل تمہارے پر نہ لائے۔جیسا کہ مردوں کو بھی فرمایا ہے کہ شادی صرف شوق پورا کرنے کے لئے نہیں ہونی چاہئے۔آپ فرماتے ہیں کہ: "ہمارے اس زمانہ میں بعض خاص بدعات میں عورتیں بھی مبتلا ہیں۔وہ تعدد نکاح کے مسئلہ کو نہایت بُری نظر سے دیکھتی ہیں گویا اس پر ایمان نہیں رکھتیں۔ان کو معلوم نہیں کہ خدا کی شریعت ہر ایک قسم کا علاج اپنے اندر رکھتی ہے۔پس اگر اسلام میں تعدد نکاح کا مسئلہ نہ ہو تا تو ایسی صورتیں کہ جو مر دوں کے لئے نکاح ثانی کے لئے پیش آجاتی ہیں اس شریعت میں ان کا کوئی علاج نہ ہوتا۔مثلاً اگر عورت دیوانہ ہو جائے یا مجذوم ہو جائے یا ہمیشہ کے لئے کسی ایسی بیماری میں گرفتار ہو جائے جو بیکار کر دیتی ہے یا اور کوئی ایسی صورت پیش آجائے کہ عورت قابل رحم ہو مگر بیکار ہو جاوے اور مرد بھی قابل رحم کہ وہ تجرد پر صبر نہ کر سکے تو ایسی صورت میں مرد کے قومی پر یہ ظلم ہے کہ اس کو نکاح ثانی کی اجازت نہ دی جاوے۔در حقیقت خدا کی شریعت نے انہیں امور پر نظر کر کے مردوں کے لئے یہ راہ کھلی رکھی ہے۔اور مجبوریوں کے وقت عورتوں کے لئے بھی راہ کھلی ہے کہ اگر مرد بیکار ہو جاوے تو حاکم کے ذریعہ سے خلع کرالیں جو طلاق کے قائمقام ہے۔خدا کی شریعت دوا فروش کی دوکان کی مانند