خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 96
96 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 مارچ 2017 خطبات مسرور جلد 15 کہ عورتوں کے ساتھ نیک سلوک کرو۔بیویوں کی جو تمہارے خیال میں بظاہر نا پسندیدہ باتیں ہیں ان کے بارے میں بھی فیصلہ کرنے میں جلدی نہ کرو کیونکہ اس بظاہر نا پسندیدہ بات میں بھی ہو سکتا ہے کہ بھلائی چھپی ہوئی ہو اور جلد بازی اور غلط رویے کی وجہ سے اس بھلائی اور خیر سے تم محروم ہو جاؤ۔پس عورتوں سے حسن سلوک کی اللہ تعالیٰ نے مختلف طریقوں سے ہدایت فرمائی ہے اور اس کو مر دوں کو اپنے سامنے رکھنا چاہئے۔پھر مردوں کی دوسری شادی یا دوسری شادی کی خواہش کی وجہ سے بہت سے مسائل سامنے آرہے ہیں۔گھروں میں لڑائی جھگڑا پڑا ہوا ہے۔مردوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ اگر دوسری شادی کی اسلام میں اجازت ہے تو بعض شرائط اور جائز ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے ہے۔یہ نہیں کہ بچوں والے ہیں، ہنستا بستا گھر ہے اور یہاں کے ماحول کے زیر اثر یا تھوڑی سی کشائش اللہ تعالیٰ نے دے دی تو شوق پورا کرنے کے لئے شادی کر لے یا غلط طریقے سے دوستیاں کر کے شادی کر لیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس بارے میں تفصیلی ہدایت فرمائی ہے۔اسے سامنے رکھنا چاہئے۔آپ نے فرمایا کہ : " خد اتعالیٰ کے قانون کو اس کے منشاء کے برخلاف ہر گز نہ برتنا چاہئے اور نہ اس سے ایسا فائدہ اٹھانا چاہئے جس سے وہ صرف نفسانی جذبات کی ایک سپر بن جاوے۔" اپنے نفسانی جذبات کو پورا کرنے کے لئے تم اللہ تعالیٰ کے اس قانون کو ڈھال بنالو۔یہ نہیں ہونا چاہئے۔یاد رکھو کہ ایسا کرنا معصیت ہے۔خدا تعالیٰ بار بار فرماتا ہے کہ شہوات کا تم پر غلبہ نہ ہو بلکہ تمہاری غرض ہر ایک امر میں تقویٰ ہو۔" فرمایا کہ "اگر شریعت کو سپر بنا کر شہوات کی اتباع کے لئے بیویاں کی جاویں گی تو سوائے اس کے اور کیا نتیجہ ہو گا کہ دوسری قومیں اعتراض کریں کہ مسلمانوں کو بیویاں کرنے کے سوا اور کوئی کام ہی نہیں۔" اپنی نفسانی اغراض کو، شہوات کو اگر تم ڈھال بنا کے شادیاں کرتے ہو تو یہ جائز نہیں ہے۔بالکل غلط ہے کہ تعلقات بنا کے اپنی پرانی بیویوں کو چھوڑ دو اور نئی عورتوں سے تعلقات بنا کے شادیاں کرو۔یہ غلط طریقہ کار ہے اور اس پہ فرمایا کہ لوگ اعتراض کریں تو ٹھیک کریں گے کہ مسلمانوں کو سوائے شادیاں کرنے کے کوئی کام نہیں۔فرمایا کہ " زنا کا نام ہی گناہ نہیں بلکہ شہوات کا کھلے طور پر دل میں پڑ جانا گناہ ہے۔دنیاوی تمتع کا حصہ انسانی زندگی میں بہت ہی کم ہونا چاہئے۔" یہ جو دنیاوی فائدہ ہے اس کا حصہ انسانی زندگی میں کم ہو " تاکہ فَلْيَضْحَكُوا قَلِيلًا وَ لْيَنكُوْا كَثِيرًا۔یعنی ہنسو تھوڑا اور روڈ بہت کا مصداق بنو۔لیکن جس شخص کی دنیاوی تمتع کثرت سے ہیں " جن کی دنیاوی خواہشات اور فائدے بہت زیادہ ہیں " اور وہ رات دن بیویوں میں مصروف ہے اس کو رقت اور رونا کب نصیب ہو گا۔" اور یہی حال دوسری لغویات کا ہے جن میں انسان مصروف ہو جاتا ہے۔فرمایا کہ "اکثر لوگوں کا یہ حال ہے کہ وہ ایک خیال کی تائید اور اتباع میں تمام سامان