خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 95 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 95

خطبات مسرور جلد 15 95 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 03 مارچ 2017 ہے لیکن اتنے حصہ کی وضاحت فرماتے ہوئے حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ تعالی عنہ نے بڑے خوبصورت انداز میں اس کی وضاحت فرمائی ہے۔فرمایا کہ "ہندوستان میں لوگ اکثر اپنے گھر میں خصوصا ساس بہو کی لڑائی کی شکایت کرتے رہتے ہیں۔قرآن مجید پر عمل کریں تو ایسا نہ ہو۔دیکھو اس میں " یعنی اس آیت میں " ارشاد ہے کہ گھر الگ الگ ہوں۔ماں کا گھر الگ۔اولا د شادی شدہ کا گھر الگ۔" جب الگ الگ گھر ہوں گے تبھی تو کھانا کھانے کی حقائق الفرقان جلد 3 صفحہ 233) پس سوائے کسی مجبوری کے گھر الگ ہونے چاہئیں۔گھروں کی علیحد گی سے جہاں ساس بہو اور نند بھا بھی اجازت ہے۔کے مسائل ختم ہوں گے وہاں لڑکے اور لڑکی کو اپنی ذمہ داری کا احساس بھی ہو گا۔یہاں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ بعض لوگ اپنی لڑکیوں کے رشتہ سے پہلے لڑکے سے پوچھتے ہیں کہ اس کا اپنا گھر ہے یعنی گھر کا مالک ہے۔اس کے پاس اس گھر کی ملکیت ہے۔اگر نہیں تو رشتہ نہیں کرتے۔یہ طریق بھی بڑا غلط طریقہ کار ہے۔پس دنیاوی لالچ کی بجائے لڑکی والوں کو لڑکے کا دین دیکھنا چاہئے۔گھر تو آہستہ آہستہ بن ہی جاتے ہیں اگر گھر میں پیار محبت ہو۔اسی طرح بعض جگہ سے ، بعض ملکوں سے مجھے یہ بھی شکایت آتی ہے کہ ہمارے جو بعض مربیان فارغ ہو رہے ہیں ان سے لوگ اپنی بیٹیوں کا رشتہ اس لئے نہیں کرنا چاہتے کہ وہ مربی واقف زندگی ہے۔یہ بھی غلط طریق ہے۔حالانکہ دین دیکھنا چاہئے۔پھر مر دوں کو اللہ تعالیٰ یہ نصیحت فرماتا ہے کہ عورتوں کی باتوں پر جلد بازی سے فیصلہ نہ کر لیا جائے اور ان سے غلط رویہ نہ اپنائیں۔ان کی باتوں کا برا نہ منائیں۔اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرماتے ہوئے کہ وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللهُ فِيْهِ خَيْرًا كَثِيرًا۔(النساء:20) اور ان سے نیک سلوک سے زندگی بسر کرو۔فَاِن كَرِهْتُمُوهُنَّ (اگر تم انہیں ناپسند کرو) فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا۔تو ممکن ہے کہ تم ایک چیز کو ناپسند کرو اور اللہ تعالیٰ اس میں بہت بھلائی رکھ دے۔حضرت خلیفۃ المسیح الاول اس کی وضاحت کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ : " پس عزیز و! تم دیکھو اگر تم کو اپنی بیوی کی کوئی بات نا پسند ہو تو تم اس کے ساتھ پھر بھی عمدہ سلوک ہی کرو۔اللہ فرماتا ہے ہم اس میں عمد گی اور خوبی ڈال دیں گے۔ہو سکتا ہے کہ ایک بات حقیقت میں عمدہ ہو اور تم کو بری معلوم ہوتی ہو۔" خطبات نور صفحہ 255 خطبہ فرمودہ 13 ستمبر 1907ء) پس جو خاوند بیویوں کو چھوڑنے میں جلد بازی کرتے ہیں یا حسن سلوک نہیں کرتے یا عورتوں کے جذبات کا خیال نہیں رکھتے یا عورتوں کی بعض باتوں پر برا منا کر ان کے ساتھ غلط رویے رکھتے ہیں۔یہ نصیحت ہے ان کے لئے