خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 94 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 94

خطبات مسرور جلد 15 94 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 03 مارچ 2017 " ہمیں قرآن نے تو یہ تعلیم دی ہے کہ پر ہیز گار رہنے کی غرض سے نکاح کرو۔" نکاح کی غرض کیا ہے؟ پر ہیز گار رہنا " اور اولاد صالح طلب کرنے کے لئے دعا کرو۔" اور پھر جب شادی ہو جائے تو صالح اولاد کیلئے دعا کرو۔"جیسا کہ وہ اپنی پاک کلام میں فرماتا ہے۔مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسْفِحِينَ۔(النساء: 25) یعنی چاہئے کہ تمہارا نکاح اس نیت سے ہو کہ تا تم تقویٰ اور پر ہیز گاری کے قلعہ میں داخل ہو جاؤ۔۔۔۔۔اور مُخصنِین کے لفظ سے یہ بھی پایا جاتا ہے کہ جو شادی نہیں کرتا وہ نہ صرف روحانی آفات میں گرتا ہے بلکہ جسمانی آفات میں بھی مبتلا ہو جاتا ہے۔سو قرآن شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ شادی کے تین فائدے ہیں۔" (اور اسی غرض کے لئے کرنی چاہئے۔وہ کیا ہیں۔" ایک عفت اور پر ہیز گاری۔دوسری حفظ صحت "صحت کی حفاظت۔" تیسری اولاد۔" (آریہ دھرم، روحانی خزائن جلد 10 صفحه 22) پس اگر یہ باتیں پیش نظر رہیں تو رشتے طے کرتے وقت مسائل نہ ہوں اور دنیا داری دیکھنے کی بجائے انسان پہلے دین دیکھے۔پھر ان باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے شادی کرے۔بعض گھروں میں اس لئے فساد اور لڑائی جھگڑا ہوتا ہے کہ لڑکی بیاہ کر جب رخصت ہوتی ہے تو خاوند کے پاس علیحدہ گھر نہیں ہو تا اور وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ رہ رہا ہوتا ہے۔اس میں بعض حالات میں تو مجبوری ہوتی ہے کہ لڑکے کی اتنی آمد نہیں ہے کہ وہ علیحدہ گھر لے سکے یا لڑکا ابھی پڑھ رہا ہے تو مجبوری ہے اور لڑکی کو بھی پتا ہونا چاہئے کہ لڑکے کی آمد یا مجبوری کی وجہ سے علیحدہ گھر لینا مشکل ہے تو پھر ایسے حالات میں کچھ عرصہ وہ سسرال میں گزارہ کرے۔لیکن بعض دفعہ لڑکی اور اس کے والدین جلد بازی کی وجہ سے رشتے ہی تڑوا دیتے ہیں۔شادی بھی ہو گئی اور پھر خلع لے لی۔یہ غلط طریقہ کار ہے۔اگر سسرال میں نہیں رہ سکتے تو پہلے بتائیں اور پھر اتنی جلدی شادی نہ کریں کیونکہ لڑکے والوں کے حالات ایسے نہیں ہیں۔لیکن بعض لڑکے اپنی غیر ذمہ دارانہ طبیعت یا ماں باپ کے کہنے پر ، ان کے دباؤ پر ماں باپ کے ساتھ رہتے ہیں حالانکہ علیحدہ گھر لے سکتے ہیں اور بہانہ ہے کہ ماں باپ بوڑھے ہیں۔اس لئے ان کے ساتھ رہنا ضروری ہے جبکہ دوسرے بھائی بہن بھی والدین کے ساتھ ہوتے ہیں یا پھر اگر وہ نہ بھی ہوں تو والدین کی عمومی صحت اور حالت ایسی نہیں ہے کہ وہ علیحدہ نہ رہ سکتے ہوں۔اس میں صرف لڑکے کے ماں باپ کی ضد ہوتی ہے۔اسلام اس بارے میں کیا کہتا ہے۔اللہ تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے: لَيْسَ عَلَى الْأَعْلَى حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْأَعْرَجِ حَرَج وَلَا عَلَى الْمَرِيضِ حَرَجٌ وَلَا عَلَى أَنْفُسِكُمْ أَنْ تَأْكُلُوا مِنْ بُيُوتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَبَائِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أمهتِكُمْ۔(النور: 62) یعنی اندھے پر کوئی حرج نہیں اور نہ لولے لنگڑے پر حرج ہے اور نہ مریض پر اور نہ تم لوگوں پر کہ تم اپنے گھروں سے یا اپنے باپ دادا کے گھروں سے کھانا کھاؤ یا اپنی ماؤں کے گھروں سے۔یہ لمبی آیت