خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 93 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 93

خطبات مسرور جلد 15 93 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 مارچ2017 ہوتے ہیں۔"حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا تمہاری ناک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناک سے بھی بڑی ہے۔تمہاری عزت تو سید ہونے میں ہے۔پھر اگر اس قدر جہیز دینے سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک نہیں ہوئی تو تمہاری کس طرح ہو سکتی ہے ؟۔" ( تفسیر کبیر زیر تفسير سورة الشعراء جلد 7 صفحه 20) ایک طرف تم کہتے ہو میں سیّد ہوں۔پھر ہتک کس بات کی۔پس بعض دفعہ لڑکیوں کو یہ طعنے بھی ملتے ہیں کہ جہیز تھوڑا ہے۔ان لوگوں کے لئے بھی سبق ہے جو لڑکیوں کو جذباتی تکلیف دیتے ہیں اور اسی طرح لڑکی والوں کے لئے بھی کہ جہیز حسب توفیق دیں۔جتنی توفیق ہے ضرور دینا چاہئے لیکن بلا وجہ اپنے پر بوجھ نہیں ڈالنا چاہئے۔استخاروں سے پہلے جہاں رشتے کی خواہش ہو اس لڑکی کو دیکھنا بھی چاہئے۔اس بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے جو " حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس تھا۔آپ کے پاس ایک شخص آیا اس نے بتایا کہ اس نے انصار کی ایک عورت کو شادی کا پیغام بھیجوایا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا کہ کیا تم نے اس عورت کو دیکھ لیا ہے ؟ اس نے کہا۔نہیں۔آپ نے فرمایا پہلے اسے دیکھ لو کیونکہ انصار کی آنکھوں میں کچھ چیز ہوتی ہے۔" (صحیح مسلم کتاب النکاح باب ندب من اراد نكاح امراة الى ان ينظر الى وجهها۔۔۔۔۔۔۔حديث 3485) پس لڑکی کو دیکھنا، لڑکی والوں کے گھر جا کر دیکھنا اس میں کوئی حرج نہیں۔لیکن بعض لڑکے والے اپنے تکبر کی وجہ سے لڑکیوں کے گھروں میں اپنے بیٹوں کے ساتھ جاتے ہیں کہ رشتہ دیکھنے آئے ہیں کیونکہ رشتہ ناطہ نے یہ رشتہ تجویز کیا ہے اور پھر جیسا کہ میں نے کہا یہ تکبر کی وجہ سے اس لئے کہ وہاں جاکر ان کی باتیں عجیب و غریب قسم کی ہو رہی ہوتی ہیں، باوجود اس کے کہ پہلے تصویر بھی دیکھ چکے ہوتے ہیں، کوائف کا تبادلہ بھی ہو چکا ہوتا ہے لیکن پھر بھی لٹکاتے ہیں اور دنیاوی لحاظ سے اگر اس عرصہ میں کوئی بہتر رشتہ ان کو مل جائے تو پہلے رشتہ کو ختم کر دیتے ہیں۔یہ غلط طریقہ ہے۔احمدی لڑکیوں کی اکثریت اپنے ماں باپ کا احترام کرتی ہے اور ان کے تجویز کردہ رشتوں کو قبول بھی کر لیتی ہے لیکن بعض جگہ لڑکے والے آتے ہیں جیسا کہ میں نے کہا دیکھتے ہیں اور پھر خاموشی ہو جاتی ہے۔جب تصویر بھی دیکھ لی۔کوائف بھی دیکھ لئے۔سب کچھ پتالگ گیا۔قد کاٹھ کتنا ہے؟ تو پھر بلا وجہ لڑکا کر یا بعض باتیں کر کے لڑکی کو جذباتی تکلیف بھی نہیں دینی چاہئے۔شادی کی غرض جو ہمیں دین بتاتا ہے اگر اس پر عمل کیا جائے تو لڑکیوں کو جذباتی تکلیف نہ پہنچے اور نہ ہی لڑکے والوں کی طرف سے تکبر یا جذبات سے کھیلنے کے واقعات ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام شادی کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ :