خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 92 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 92

خطبات مسرور جلد 15 92 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 مارچ2017 تمہیں برکت دے اور تم دونوں پر برکت نازل کرے اور تم دونوں کو نیکی پر جمع کرے۔" خطبات نور صفحہ 519-520 خطبه فرمودہ 25 دسمبر 1911ء) پس ہر موقع پر خیر اور برکتوں کی دعا کی جاتی ہے تو پھر رشتے بابرکت بھی ہوتے ہیں۔بعض لوگ پاکستانی اور ہندوستانی ماحول کے زیر اثر ا بھی تک خاندان، برادری، قوم کے مسئلہ میں الجھے ہوئے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ تو یہ کہتا ہے کہ جب رشتے آئیں تو دعا کرو۔دعا کرو اور استخارہ کرو۔دین کو ترجیح دو۔تو بجائے اس کے کہ دعا کریں، دین کو ترجیح دیں، یہ باتیں ان کے محل نظر نہیں ہو تیں بلکہ برادری اور قوم مد نظر ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ "رشتہ ناطہ میں یہ دیکھنا چاہئے کہ جس سے نکاح کیا جاتا ہے وہ نیک بخت اور نیک وضع آدمی ہے اور کسی ایسی آفت میں مبتلا تو نہیں جو موجب فتنہ ہو۔اور یاد رکھنا چاہئے کہ اسلام میں قوموں کا کچھ بھی لحاظ نہیں۔صرف تقویٰ اور نیک بختی کا لحاظ ہے۔" (ملفوظات جلد 9 صفحہ 46) پس یہ بنیادی اصول ہے کہ تقویٰ دیکھو۔باقی سب باتیں بدعات ہیں۔ہاں کفو دیکھنے کا ارشاد ہے اس لئے کفود یکھنا چاہئے اور ضرور دیکھنا چاہئے لیکن اس میں بھی سختی نہیں ہونی چاہئے۔سفو کو کس حد تک دیکھنا چاہیئے ؟ اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کسی کے سوال اور آپ کے جواب کا ذکر ملتا ہے۔" ایک دوست کا سوال پیش ہوا کہ ایک احمدی اپنی ایک لڑکی غیر کفو کے ایک احمدی کے ہاں دینا چاہتا ہے حالانکہ اپنی کفو میں رشتہ موجود ہے۔اس کے متعلق آپ کا کیا حکم ہے۔"حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر حسب مراد رشتہ ملے تو اپنی کفو میں کرنا بہ نسبت غیر کفو کے بہتر ہے۔لیکن یہ امر ایسا نہیں کہ بطور فرض کے ہو۔" فرض نہیں ہے۔ہاں بہتر ہے۔فرمایا کہ "ہر ایک شخص ایسے معاملات میں اپنی مصلحت اور اپنی اولاد کی بہتری کو خوب سمجھ سکتا ہے۔اگر کفو میں وہ کسی کو اس لائق نہیں دیکھتا تو دوسری جگہ دینے میں حرج نہیں اور ایسے شخص کو مجبور کرنا کہ وہ بہر حال اپنی کفو میں اپنی لڑکی دیوے جائز نہیں ہے۔" (البدر مورخہ 11 اپریل 1907ء صفحہ 7 جلد 6 نمبر 15) بعض لوگوں کو اپنے خاندانوں پر بڑا زعم ہوتا ہے۔ایسے ہی ایک شخص کو حضرت خلیفہ المسیح الاول نے ایک دفعہ خوب پکڑا۔ایک طرف زعم ہوتا ہے اور ایک طرف حالت اپنی کیا ہے ؟ حضرت خلیفہ المسیح الثانی فرماتے ہیں کہ "حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے پاس ایک دفعہ ایک شخص آیا اور کہنے لگا میں سیڈ ہوں۔میری بیٹی کی شادی ہے۔آپ اس موقع پر میری کچھ مدد کریں " آپ نے فرمایا "میں تمہاری بیٹی کی شادی کے لئے وہ سارا سامان تمہیں دینے کے لئے تیار ہوں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی فاطمہ کو دیا تھا۔وہ یہ سنتے ہی بے اختیار کہنے لگا آپ میری ناک کاٹنا چاہتے ہیں۔" جہیزوں کا اس قدر رواج ہے اور اس وجہ سے بعض مسائل بھی پیدا