خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 91 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 91

خطبات مسرور جلد 15 91 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 مارچ2017 ہو اور اس امر کا باعث ہوتا ہے کہ آپس میں پیار اور محبت پیدا ہو۔فرمایا کہ "سب سے پہلی تدبیر یہ بتائی کہ نکاح کی غرض ذاتِ الدّین ہو۔" پہلے ذکر ہو چکا دین کو تلاش کرنا ہے۔" حسن و جمال کی فریفتگی یا مال و دولت کا حصول یا محض اعلیٰ حسب و نسب اس کے محرکات نہ ہوں۔پہلے نیت نیک ہو۔پھر اس کے بعد دوسرا کام یہ ہے کہ نکاح سے (خطبات نور صفحہ 518-519 خطبہ فرمودہ 25 دسمبر 1911ء) پہلے بہت استخارہ کرو۔" پس رشتے سے پہلے جب بندہ دعا میں اللہ تعالیٰ سے تسکین اور محبت سے زندگی گزارنے کی دعا کرے اور یہ دعا کرے کہ اگر اس میں میرے لئے تسکین ہے اور خیر ہے تو یہ رشتہ ہو جائے اور شادی ہو جائے تو پھر شادی شدہ زندگی اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی کامیاب گزرتی ہے لیکن یہ بھی یادرکھیں کہ شادی کے بعد بھی شیطان مختلف ذریعوں سے حملے کرتارہتا ہے۔اس لئے یہ دعا ہمیشہ کرتے رہنا چاہئے کہ شادی ہمیشہ سکون اور محبت اور پیار سے گزرے۔پھر حضرت خلیفتہ المسیح الاول نے مزید استخارے کی اہمیت بتائی ہے۔ایک موقع پر اس کی نصیحت کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ " بڑے بڑے کاموں میں سے نکاح بھی ایک کام ہے۔" ایک چھوٹا کام نہیں ہے۔بڑے بڑے کاموں میں سے ایک کام ہے۔"اکثر لوگوں کا یہی خیال ہوتا ہے کہ بڑی قوم کا انسان ہو۔حسب نسب میں اعلیٰ ہو۔مال اس کے پاس بہت ہو۔حکومت اور جلال ہو۔خوبصورت اور جو ان ہو۔مگر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ کوشش کیا کرو کہ دیندار انسان مل جاوے" چاہے وہ لڑکی ہے یا لڑکا ہے۔" اور چونکہ حقیقی علم، اخلاق، عادات اور دینداری سے آگاہ ہونا مشکل کام ہے۔جلدی سے پتا نہیں لگ سکتا۔" بعض رشتے ٹوٹتے ہیں تو وہ یہی کہتے ہیں کہ ہم نے بظاہر یہ دیکھ کر رشتہ کر لیا کہ دیندار ہے، اچھے اخلاق ہیں، سب کچھ ہے لیکن بعد میں پتا لگا سب کچھ غلط تھا۔کیونکہ یہ پتا نہیں لگ سکتا اس لئے فرمایا کہ استخارہ ضرور کر لیا کرو۔" خطبات نور صفحہ 254 خطبہ فرمودہ 13 ستمبر 1907ء) آپ نے فرمایا کہ "ہم انجام سے بے خبر ہوتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ تو عالم الغیب ہے۔اس لئے اول خوب ( خطبات نور صفحہ 478 خطبہ فرمودہ 26 اگست 1910ء) استخارہ کرو اور خدا سے مدد چاہو۔" آپ خطبہ نکاح پر پڑھی جانے والی آیات کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ ان میں یہ نصیحت ہے کہ تقویٰ کو سامنے رکھتے ہوئے رحمی رشتوں کا خیال رکھو۔قولِ سدید سے کام لو۔یہ جائزہ لو کہ تم اپنے کل کے لئے کیا آگے بھیج رہے ہو۔اگر تم نے زندگی کی کامیابیاں دیکھنی ہیں تو تقویٰ بہت ضروری ہے۔اس بارے میں استخارے کے بعد جب نکاح کا موقع آتا ہے تو آپ فرماتے ہیں " اس خطبہ میں بھی یعنی نکاح پہ جو تلاوت کی جاتی ہے اس امر کی طرف متوجہ کیا ہے کہ ان دعاؤں سے کام لے اور اپنے اعمال و افعال کے انجام کو سوچے اور غور کرے۔پھر نکاح کی مبارکباد کے موقع پر بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا سکھائی بَاركَ اللَّهُ لَكَ وَبَارَكَ عَلَيْكَ وَجَمَعَ بَيْنَكُمَا فِى خَيْرٍ (جامع الترمذى كتاب النكاح باب ما جاء في ما يقال للمتزوج) يعنى الله تعالى