خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page xii
iv خطبات مسرور جلد 15 خلاصہ خطبات مسلمان ممالک میں باغی گروہوں کو ہتھیار مغربی ممالک سے ہی ملتے ہیں اور اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لئے اور اسلام کے خلاف جو بغض ہے اس کے اظہار کے لئے بعض طاقتوں نے بڑی ہوشیاری سے ان گروہوں کو منظم کیا ہے۔بد قسمتی یہ ہے کہ مسلمانوں کو جب بھی نقصان پہنچا ہے مسلمانوں کے اپنے عمل اور سازشوں اور بغاوتوں اور ایک دوسرے کے حق نہ ادا کرنے اور ذاتی مفادات کو قومی اور ملی مفادات پر ترجیح دینے سے ہی پہنچا ہے۔اسلام کی تعلیم کو بھولنے اور اپنے مقصد کو نظر انداز کرنے سے ہی پہنچا ہے۔آجکل الجزائر میں یہ ظلم بڑھ رہا ہے۔پولیس احمدیوں کو ہر اساں کر رہی ہے۔عدالتیں اپنی مرضی کے فیصلے کر کے احمدیوں کو جیلوں میں ڈال رہیں ہیں اور بعض کو ایک سال سے تین سال تک کی جیل کی سزا ملی ہے یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ مظلوم کو دیکھ رہا ہے اور مظلوم کی دعائیں اللہ تعالیٰ کے عرش پر پہنچ رہی ہیں اور پہنچتی ہیں۔اس کی عدالت نے جب فیصلہ کیا تو ان ظالموں کی نہ دنیا ر ہے گی نہ آخرت۔پس ان کو اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے بھی ڈرنا چاہئے۔ان ملکوں میں جہاں اسلام کے خلاف قوتیں زور پکڑ رہی ہیں ان کے زور کو توڑنے کے لئے اگر کوئی منظم کوشش کر سکتا ہے تو وہ جماعت احمدیہ ہی کر سکتی ہے۔دوسرے مسلمان اسلام کی خوبصورتی کو ظاہر کرنے اور اس کا پیغام پہنچانے کا کام کر ہی نہیں سکتے ان میں وہ تنظیم ہی نہیں ہے نہ ان کے پاس علم ہے۔یہ کام اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ منسلک ہونے والوں کے ذریعہ مقدر ہے۔مکرم مولانا حکیم محمد دین صاحب ( قادیان ) مکرم فضل الہی انوری صاحب (جرمنی) اور مکرم ابراہیم بن عبد الله اغزول صاحب (مراکش) کا ذکر خیر۔خطبہ : 12 الله مورخہ 24 مارچ بمقام: بیت الفتوح - لندن صفحہ:135-124 خلاصہ : 23 مارچ جماعت احمدیہ کی تاریخ میں بڑا اہم دن ہے کیونکہ اس دن حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام نے جماعت احمدیہ کی باقاعدہ بیعت کے ذریعہ سے بنیاد رکھی۔آپ نے فرمایا کہ آنے والا مسیح موعود اور مہدی معہود جس کے آنے کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی تھی وہ میں ہوں۔آپ نے فرمایا کہ میں اس لئے بھیجا گیا ہوں تا کہ توحید کا قیام کر کے محبت الہی دلوں میں پیدا کروں۔حضرت اقدس مسیح موعود کے ارشادات اور آپ کی سیرت کے واقعات سے آپ کی محبت الہی، عشق رسول صلی علیم اور ہمد ردگی بنی نوع انسان کا نہایت روح پرور تذکرہ اور اس حوالہ سے احباب جماعت کو ان کی ذمہ داریوں کی ادائیگی کی طرف توجہ دینے کی پر زور تاکید۔یورپ میں جو واقعات ہو رہے ہیں، اسلام کے نام پر افراد یا تنظیمیں کر رہی ہیں یا یہاں لندن میں دو دن پہلے ظالمانہ طور پر معصوموں کو قتل کیا گیا ہے۔راہ چلتے راہگیروں پر کار چڑھا دی۔ایک پولیس والے کو قتل کیا۔تو یہ اسی وجہ سے ہے کہ ان نام نہاد علماء نے لوگوں کی غلط رہنمائی کر کے ان کے دلوں میں بجائے اسلام کی خوبصورت تعلیم ڈالنے کے ظلم و بربریت کے خیالات پیدا کر دیئے ہیں۔قتل و غارت کی، معصوموں کو قتل کرنے کی جو یہ حرکتیں ہو رہی ہیں، ان حرکتوں کو ہمیں سختی سے ہر جگہ رڈ کرنا چاہئے۔اس کے خلاف آواز اٹھانی چاہئے اور متاثرین سے ہمدردی کرنا بھی ہمارا کام ہے۔خطبہ:13 مورخه : 31 مارچ بمقام: بیت الفتوح لندن صفحہ:145-136 خلاصہ: دنیا میں کوئی انسان نہیں جو ہر عیب سے ہر لحاظ سے پاک ہو۔اللہ تعالیٰ کی صفت ستار ہے جو ہماری پردہ پوشی کرتی ہے۔عیب دیکھ کر بجائے اس عیب کو پھیلانے کے ہر ایک کو استغفار کرنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے اور اس بات سے ڈرنا چاہئے کہ ہمارے اندر بھی جو بے شمار عیب ہیں وہ کہیں ظاہر نہ ہو جائیں۔اگر نیک نیت سے انسان دوسروں کے عیبوں کی پردہ پوشی کرے تو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے والا بنتا ہے۔ایسے لوگ جن کے سپر دیہ اصلاح کا کام ہے وہ جہاں لوگوں کی پردہ دری کر کے معاشرے