خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 90
خطبات مسرور جلد 15 مقدم کرنے کا عہد لیا۔90 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 03 مارچ 2017 (ماخوذ از ملفوظات جلد 7 صفحہ 391) یہ عہد ہم مختلف مواقع پر دہراتے ہیں لیکن جب اس پر عمل کا وقت آئے تو بھول جاتے ہیں۔شادی بیاہ کے موقع پر تو اچھے بھلے بظاہر دین کی خدمت کرنے والے اسے بھول رہے ہوتے ہیں حالانکہ شادی بیاہ کے معاملہ میں تو ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے خاص ہدایت بھی ملی ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم کرنا ہے۔دین مقدم کر کے اگر دنیا مل جائے تو یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور دنیا داروں کی زبان میں ہم اگر کہیں تو یہ بونس(Bonus) ہے۔لیکن اگر صرف دنیا کو دیکھا جائے اور پھر دین کو مقدم رکھنے کا دعویٰ ہو تو پھر مسائل پیدا ہوتے ہیں کیونکہ سچائی نہیں ہے۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بات کو ہمیشہ ہمیں یاد رکھنا چاہئے جو رشتہ کی تلاش کے وقت ترجیحی بنیاد پر اپنے سامنے رکھنے کے لئے آپ نے فرمائی جس کی روایت حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورت سے چار وجوہات کی بناء پر شادی کی جاتی ہے۔اس کے مال کی وجہ سے۔اس کے حسب و نسب کی وجہ سے۔خاندان کی وجہ سے۔اس کی خوبصورتی کی وجہ سے اور اس کے دین کی وجہ سے۔پس تم دیندار عورت کا انتخاب کرو خدا تمہارا بھلا کرے۔(صحیح البخارى كتاب النكاح باب الاكفاء في الدين حديث 5090) اگر اس بات کو لڑکے بھی اور لڑکے کے گھر والے بھی سامنے رکھنے لگ جائیں تو لڑکیاں اور لڑکی کے گھر والے اپنی ترجیح جو ہے وہ دین کر لیں گے اور جب دین ترجیح ہو گی تو بہت سے شکوے اور تحفظات جو لڑکی اور لڑکے اور اس کے گھر والوں کے بارے میں، ایک دوسرے کے بارے میں پیدا ہوتے ہیں وہ دور ہو جائیں گے۔اور جو لڑکا دیندار لڑکی کی تلاش میں ہو گا اور دین مقدم کر رہا ہو گا اس کو پھر اپنا عمل بھی دینی تعلیم کے مطابق ڈھالنا پڑے گا۔اور جو دینی تعلیم پر عمل کر رہا ہو گا اس کے گھر میں بلاوجہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر فتنہ اور فساد پیدا نہیں ہو رہا ہو گا اور نہ ہی لڑکے کے گھر والے لڑکی کے لئے مشکلات پیدا کرنے والے ہوں گے۔پھر اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ دین دیکھنا بیشک ترجیح ہے لیکن بعض دفعہ ہر جوڑ ہر ایک کے لئے مناسب نہیں ہو تا۔اس لئے رشتوں سے پہلے استخارہ کر لیا کرو۔(صحيح البخارى كتاب الدعوات باب الدعاء عند الاستخارة حديث 6382) اللہ تعالیٰ سے رشتہ کے لئے خیر طلب کرو۔یا پھر یہ کہ اگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس رشتے میں خیر نہیں ہے تو اس میں روک پیدا فرما دے۔اس بارے میں حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے ایک موقع پر بڑے خوبصورت انداز میں فرمایا کہ "نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑا ہی احسان فرمایا ہے کہ ہم کو ایسی راہ بتائی ہے کہ ہم اگر اس پر عمل کریں تو انشاء اللہ نکاح ضرور سکھ کا موجب ہو گا اور جو غرض اور مقصود قرآن مجید میں نکاح سے بتایا گیا ہے کہ وہ تسکین اور موڈت کا باعث ہو ، وہ پیدا ہوتی ہے۔"شادی بیاہ اس لئے کیا جاتا ہے تا کہ ایک دوسرے کے لئے تسکین