خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 89
خطبات مسرور جلد 15 89 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 مارچ2017 وجوہات کی وجہ سے والدین کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو لڑکیاں رہنا نہیں چاہتیں یا دین کا ان کو علم نہیں یالڑ کے سے غلط توقعات رکھی جاتی ہیں مثلاً فوری طور پر نیا گھر لو اور ایسا گھر ہو جو تمہاری ملکیت بھی ہو۔پھر میاں بیوی کے معاملات میں لڑکی کے ماں باپ کی دخل اندازی ہے۔پھر صحیح حالات نہ بتانے کی وجہ سے، ایک دوسرے کے قولِ سدید نہ کرنے کی وجہ سے شکوے پیدا ہوتے ہیں۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی ذکر کیا کہ قول سدید سے کام نہیں لیا جاتا جو کہ انتہائی ضروری ہے۔اسی طرح لڑکیوں کے دلوں میں بعض باتیں لڑکے اور اس کے گھر والوں کے لئے ہوتی ہیں۔مثلاً یہ کہ لڑکے کی ماں یا عزیز رشتہ دار جو ہیں وہ لڑکی کے سامنے ہر وقت لڑکے کی تعریف کرتے رہیں گے کہ ہمارا لڑکا ایسا ہمارا لڑکا ویسا اور لڑکی کو کسی نہ کسی بہانے مکمتر ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔مثلاً چھوٹا قد ہے، موٹی ہے ، رنگ گورا نہیں ہے وغیرہ وغیرہ۔اگر لڑکی کسی وجہ سے کوئی ملازمت کر رہی ہے تو پھر بھی اسے طعنے ملتے ہیں۔پھر لڑکے اور لڑکی کے تعلقات ہیں، میاں بیوی کے تعلقات ہیں، ان میں بھی لڑکے والوں کی مداخلت ہوتی ہے۔لڑکے لڑکیوں کو یہ بھی شکوہ ہے کہ لڑکے شادی کی اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتے۔ان میں احساس ذمہ داری نہیں ہے۔اور یہاں کے ماحول کے زیر اثر عموماً یہاں چھپیں سال چھبیس سال کے لڑکے کو بھی کہو کہ تم بڑے ہو گئے ہو تو لڑکے کہیں گے نہیں ابھی تو میں چھوٹا ہوں۔شادی کے قابل نہیں۔یہاں کے ماحول کے زیر اثر ہمارے احمدی لڑکوں میں اور ایشین اور یجن (asian origin) کے لڑکوں میں بھی یہی بیماری ہے کہ وہ یہ کہتے ہیں کہ ابھی تو ہم چھوٹے ہیں اور ذمہ داری نہیں نبھا سکتے۔اگر چھوٹے ہیں اور ذمہ داری نہیں نبھا سکتے تو پھر شادی کرنے کی ضرورت کیا ہے۔بہر حال شکووں کا یہ سلسلہ چلتا ہے اور دونوں طرف سے چلتا چلا جاتا ہے۔اسی طرح کئی سال زندگی گزارنے کے بعد جیسا کہ میں نے کہا کافی عرصہ ہو جاتا ہے، بچے بڑے ہونے شروع ہو جاتے ہیں، پھر شکوے پیدا ہوتے ہیں اور صرف بچگانہ باتیں ہوتی ہیں اور بے صبری اور غلط دوستی ایسی باتیں پیدا کرتی ہے۔اور اگر ایک فقرے میں ان مختلف عمروں کے عائلی مسائل کی وجہ بیان کی جائے تو یہ ہے کہ دین سے ڈوری ہے۔دینی تعلیمات سے لاعلمی ہے اور عدم دلچسپی ہے۔اور دنیا داری اور دنیاوی چیزوں میں رغبت ہے۔پس اگر ان مسائل کا حل تلاش کرنا ہے تو دینی تعلیم کی روشنی میں کرنا ہو گا۔ایک طرف ہم اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں اور اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم دین کو دنیا پر مقدم کرنے والے ہیں تو پھر دینی تعلیمات کی روشنی میں اس کا حل تلاش کریں جو ہمیں قرآن کریم میں، احادیث میں، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیمات میں ملتا ہے۔ہماری خوش قسمتی ہے کہ اسلام قبول کیا، ہم مسلمان ہیں اور پھر اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مانا جنہوں نے ہمارے سے ہر حال میں دین کو دنیا پر