خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 88 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 88

خطبات مسرور جلد 15 88 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 مارچ 2017 افسوس اس بات کا ہے کہ پاکستان سے رشتہ کروا کر یہاں آئی ہوئی لڑکیاں جو مغربی ممالک میں آتی ہیں وہ بھی یہاں آزادی کو دیکھ کر اس رنگ میں رنگین ہو کر پھر غلط مطالبے کرنے شروع کر دیتی ہیں بلکہ بعض دفعہ یہاں پہنچ کر گھر بسانے سے پہلے ہی رشتے توڑ دیتی ہیں اور یہ حال صرف لڑکیوں کا نہیں ہے بلکہ لڑکے بھی یہی کچھ کر رہے ہیں۔بلکہ لڑکوں کی ایسی حرکتوں کی نسبت جو ہے وہ شاید لڑکیوں سے کچھ زیادہ ہی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اکثر لڑکے اور لڑکیاں بھی قول سدید سے کام نہیں لیتے جس بات کا رشتے سے خاص تعلق ہے۔نکاح پہ جو آیات پڑھی جاتی ہیں ان میں قول سدید کے بارے میں خاص طور پر تاکید ہے۔پورے حالات ایک دوسرے کو نہیں بتائے جاتے۔پھر ماں باپ بعض دفعہ لڑکیوں پر زبر دستی کر کے ایسے رشتے کر وا دیتے ہیں جو تعلیمی فرق اور رہن سہن کی وجہ سے مطابقت نہیں رکھ رہے ہوتے کہ بعد میں ٹھیک ہو جائے گا۔اسی طرح بعض لڑکے کہیں اور دلچسپی رکھ رہے ہوتے ہیں لیکن ماں باپ کے سامنے انکار نہیں کرتے اور پاکستان میں شادی کر لیتے ہیں یا یہاں اپنے عزیزوں میں ان کی مرضی کے مطابق شادی کر لیتے ہیں اور پھر کچھ عرصہ بعد ان بیچاری لڑکیوں پر ظلم ہوناشروع ہو جاتا ہے۔پہلے اس کے خاوند کی طرف سے ظلم ہو تا ہے۔پھر وہی سسرال یا ساس جو بڑی چاہت سے لے کے آتی ہے ان کی طرف سے ظلم ہوتا ہے۔پھر باقی عزیزوں کی طرف سے ظلم ہوتا ہے۔بہر حال چاہے وہ لڑکے ہیں یا لڑکیاں ہیں، ایک طرف کا سسرال ہے یا دوسری طرف کا کسی پر بھی ان ساری باتوں کا سو فیصد الزام نہیں ڈالا جا سکتا۔بعض حالات میں لڑکے قصور وار ہوتے ہیں بعض حالات میں لڑکیاں قصور وار ہوتی ہیں۔پھر عائلی مسائل جیسا کہ میں نے کہا بچوں پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔جب کئی بچے ہونے کے بعد ، کافی عرصہ کے بعد ، اچھی بھلی زندگی گزارنے کے بعد ایک دم مرد کے دماغ میں کیڑ اکلبلاتا ہے اور وہ یہ کہتا ہے کہ میرا اپنی بیوی کے ساتھ گزارہ نہیں ہو سکتا۔اس لئے میں دوسری شادی کرنے لگا ہوں یا تمہیں طلاق دینے لگا ہوں۔یا ایک عرصہ کے بعد بیوی کہتی ہے کہ میں نے اپنی زندگی اس شخص کے ساتھ بڑی تکلیفوں میں گزاری ہے اب برداشت نہیں کر سکتی اس لئے خلع لینی ہے۔یہاں یہ بھی بتادوں کہ جماعت میں خلع کی جو نسبت ہے وہ طلاق سے زیادہ ہے۔یعنی خلع کی درخواستیں قضاء میں زیادہ آتی ہیں۔بہر حال ایسے حالات میں بچے متاثر ہوتے ہیں اور یہ بات تو معلومات رکھنے والے دنیاوی اداروں کے کوائف سے بھی ثابت شدہ ہے کہ ماں باپ کی علیحد گی کے بعد جس کے پاس بھی بچے رہ رہے ہوں وہ نفسیاتی اور اخلاقی اور دوسری صلاحیتوں کے لحاظ سے متاثر ہو رہے ہوتے ہیں۔بہر حال ان تکلیف دہ حالات کا ذمہ دار کوئی بھی ہو۔چاہے لڑکے لڑکیوں پر الزام دیتے ہیں اور یہ کہہ کر دیتے ہیں کہ مغربی ماحول میں لڑکیاں اپنے کیریئر بنانے کی وجہ سے پریشانی پیدا کرتی ہیں اور رشتے نہیں نبھا تیں یا شروع میں ہم بعض