خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 85 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 85

خطبات مسرور جلد 15 85 مخطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 فروری 2017 بند و! تم پر لازم ہے کہ تم دعا کرنے کو اختیار کرو۔(مسند احمد بن حنبل جلد 7 صفحہ 357 مسند معاذ بن جبل حديث 22394 مطبوعه عالم الكتب بيروت 1998ء) پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : یاد رکھو غفلت کا گناہ پشیمانی کے گناہ سے بڑھ کر ہوتا ہے۔یہ گناہ زہر یلا اور قاتل ہوتا ہے۔توبہ کرنے والا تو ایسا ہی ہوتا ہے کہ گویا اس نے گناہ کیا ہی نہیں۔" جس نے سچی توبہ کی۔استغفار کیا۔اپنے گزشتہ گناہوں کی معافی مانگی۔آئندہ گناہوں سے بچنے کا عہد کیا۔اس طرح ہے گویا اس نے گناہ کیا ہی نہیں۔فرمایا کہ " جس کو معلوم ہی نہیں کہ میں کیا کر رہا ہوں وہ بہت خطرناک حالت میں ہے۔پس ضرورت ہے کہ غفلت کو چھوڑ دو۔" پتا ہونا چاہئے ہم کیا کر رہے ہیں، ہمارا ہر عمل کیسا ہے۔فرمایا کہ " اور اپنے گناہوں سے تو بہ کرو اور خدا تعالیٰ سے ڈرتے رہو۔جو شخص تو بہ کر کے اپنی حالت کو درست کر لے گا وہ دوسروں کے مقابلہ میں بچایا جائے گا۔پس دعا اسی کو فائدہ پہنچا سکتی ہے جو خود بھی اپنی اصلاح کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کے ساتھ اپنے بچے تعلق کو قائم کرتا ہے۔" فرمایا کہ پیغمبر کسی کے لئے اگر شفاعت کرے لیکن وہ شخص جس کی شفاعت کی گئی ہے اپنی اصلاح نہ کرے اور غفلت کی زندگی سے نہ نکلے تو وہ شفاعت اس کو فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔" (ملفوظات جلد 5 صفحہ 230) اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ دعا کی حقیقت کو سمجھنے والے ہوں۔خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کے آگے جھکنے والے ہوں۔استغفار کی طرف توجہ دینے والے ہوں۔اپنے پچھلے گناہوں کی بخشش اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے طلب کرنے والے ہوں اور آئندہ گناہوں سے بچنے کا عہد کر کے پھر اس کی بھر پور کوشش کرنے والے ہوں۔بلاؤں کو دور کرنے کے لئے ایسے صدقات ادا کرنے والے ہوں جو خدا تعالیٰ کے ہاں مقبول ہوں۔اللہ تعالیٰ ہمیں ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے۔دشمن اور ہر مخالف کے ہر حملے سے ہمیں محفوظ رکھے اور ان کے حملے ان پر الٹائے۔ہم ہمیشہ خدا تعالیٰ کے ان بندوں میں شمار ہوں جو اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھنے والے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کے ہم وارث ہوں اور ان سے حصہ لینے والے ہوں۔نمازوں کے بعد میں ایک جنازہ بھی پڑھاؤں گا جو مکرمہ سعدہ بر تاوی صاحبہ کا ہے۔مرعی بر تاوی صاحب کی اہلیہ۔حوش عرب دمشق میں ان کی وفات ہوئی تھی۔ان کے گھر میں ہیٹنگ کے لئے استعمال ہونے والی گیس کے لیک (Leak) ہونے کی وجہ سے آگ لگنے پر یہ شدید جھلس گئیں اور ہسپتال لے جایا گیا جہاں علاج کے نتیجہ میں طبیعت بہتر ہو گئی تھی۔اس واقعہ پر انہوں نے بڑے صبر کا مظاہرہ کیا۔حمد وشکر میں مصروف رہیں اور سب سے کہتی تھیں کہ وہ خدا کی تقدیر پر راضی ہیں۔لیکن چار دن کے بعد ڈاکٹر کے مطابق انہیں ایک ہارٹ اٹیک ہوا جسے وہ برداشت نہیں کر سکیں اور 10 جنوری 2017ء کو ان کی وفات ہو گئی۔انا للہ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔آپ نے اپنے