خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 84 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 84

خطبات مسرور جلد 15 84 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 24 فروری 2017 متعلق اگر خدا تعالیٰ پہلے سے خبر دے تو وہ وعید کی پیشگوئی ہے۔پس صدقہ و خیرات سے اور توبہ کرنے اور خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے سے وعید کی پیشگوئی بھی مل سکتی ہے۔" فرمایا " ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر اس بات کے قائل ہیں کہ صدقات سے بلائل جاتی ہے۔۔۔۔۔" (ملفوظات جلد 9 صفحہ 227) اگر بلا ایسی شئے ہے کہ ٹل نہیں سکتی تو پھر صدقہ خیرات عبث ہو جاتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ جب فرماتا ہے کہ میں صدقات قبول کرتا ہوں تو وہ ایسی صورت میں بھی قبول کرنے کی طاقت رکھتا ہے اور قبول کرتا ہے جس کے بارے میں وہ بعض اوقات اپنے انبیاء اور فرستادوں کے ذریعہ سے بتا بھی دیتا ہے کہ ایسا ہو گا۔انذار کی پیشگوئی بھی ہو جاتی ہے جیسا کہ یونس کی قوم کے بارے میں تھا اور اس کی قوم دعا اور صدقہ اور رونے دھونے سے بچ گئی اور جو تباہی کی پیشگوئی تھی وہ ٹل گئی۔پس جب انبیاء کی کی گئی پیشگوئیاں بھی صدقہ و خیرات سے مل سکتی ہیں تو پھر جو مشکلات انسان کے اپنے عملوں کے نتیجہ میں سامنے آتی ہیں، خدا تعالیٰ کو بھولنے کے نتیجہ میں سامنے آتی ہیں وہ کیوں خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے سے، استغفار اور توبہ کرنے سے اور صدقات کرنے سے نہیں مل سکتیں۔یقینا ٹل سکتی ہیں بشر طیکہ ہمارار وناد ھونا، دعا کرنا، صدقات کرنا بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا کہ صدقہ خدا تعالیٰ کے غضب کو ٹھنڈا کرتا ہے اور برائی کی موت کو دور کرتا ہے۔(سنن الترمذى كتاب الزكاة باب ما جاء في فضل الصدقة حديث 664) پھر فرمایا کہ صدقہ دے کر آگ سے بچو خواہ آدھی کھجور خرچ کرنے کی توفیق ہو۔(صحیح البخاري كتاب الزكاة باب اتقوا النار ولو بشق تمرة۔۔۔الخ حديث 1417) اور پہلے ہم آپ کا یہ فرمان بھی سن چکے ہیں کہ اچھی باتوں ، نیک باتوں پر عمل کرنا اور بری باتوں سے رکنا بھی صدقہ ہے۔پس ان باتوں کو ہمیں ہمیشہ اپنے سامنے رکھنا چاہئے۔لیکن ساتھ ہی یہ بھی یاد رکھنا چاہئے ، جس کا پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے کہ استغفار اور دعاؤں کی طرف توجہ بھی انتہائی ضروری ہے۔دل سے نکلی ہوئی استغفار آئندہ گناہوں سے بھی بچاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے رحم کو بھی جوش میں لاتی ہے اور اس کا قرب بھی دلاتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا کہ تم میں سے جس کے لئے باب دعا کھولا گیا تو گویا اس کے لئے رحمت کے دروازے کھول دیئے گئے۔اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے جو چیز مانگی جاتی ہے اس میں سے سب سے زیادہ اس سے عافیت طلب کرنا محبوب ہے۔(سنن الترمذى كتاب الدعوات باب من فتح منكم باب الدعاء۔۔۔الخ حديث 3548) اللہ تعالیٰ کی عافیت طلب کی جائے۔اس کی پناہ میں آیا جائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا کہ دعا اس ابتلاء کے مقابلے پر جو آچکا ہو اور اس کے مقابلے پر جو ابھی نہ آیا ہو نفع دیتی ہے۔فرمایا کہ اے اللہ کے