خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 83
خطبات مسرور جلد 15 83 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 فروری 2017 انسان خیرات کرتے وقت کس قدر صدق و ثبات دکھاتا ہے اور اصل بات تو یہ ہے کہ صرف قیل و قال سے کچھ نہیں بنتا جب تک کہ عملی رنگ میں لا کر کسی بات کو نہ دکھایا جاوے۔" فرمایا کہ " صدقہ اس کو اسی لئے کہتے ہیں کہ صادقوں پر نشان کر دیتا ہے۔حضرت یونس کے حالات میں ڈر منثور میں لکھا ہے کہ آپ نے کہا کہ مجھے پہلے ہی معلوم تھا کہ جب تیرے سامنے کوئی آوے گا۔تجھے رحم آجائے گا۔" اللہ تعالی کو رحم آجائے گا۔( ملفوظات جلد 1 صفحہ 237-238) ایک مجلس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا جس کی تفصیل اخبار البدر میں چھپی ہے کہ بعض لوگ باہر سے آئے۔جمعہ کی نماز کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریف فرما ہوئے تو اخبار والے لکھتے ہیں کہ : " بعد ادا ئیگی جمعہ گردو نواح کے لوگوں نے بیعت کی اور حضرت اقدس نے ان کے لئے ایک مختصر تقریر نماز روزہ کی پابندی اور ہر ایک ظلم وغیرہ سے بچنے پر فرمائی کہ اپنے گھروں میں عورتوں۔لڑکیوں اور لڑکوں سب کو نیکی کی نصیحت کریں اور جیسے درختوں اور کھیتوں کو اگر پورا پانی نہ دیا جائے تو وہ پھل نہیں لاتے۔اسی طرح جب تک نیکی کا پانی دل کو نہ دیا جائے تو وہ بھی انسان کے لئے کسی کام کا نہیں ہو تا۔آپ نے فرمایا کہ نیکیوں کے ذکر گھروں میں چلتے رہنے چاہئیں تا کہ دعاؤں کی طرف بھی توجہ پیدا ہوتی رہے۔استغفار کی طرف بھی توجہ پیدا ہوتی رہے باقی نیک اعمال کی طرف بھی توجہ پیدا ہوتی رہے اور یہی پانی ہے جس سے نیکی کا پودا پروان چڑھتا ہے۔ایمان مضبوط ہو تا ہے۔لکھنے والے لکھتے ہیں کہ آپ نے " ہنسی اور ٹھٹھے کی مجلسوں سے پر ہیز " کرنے" کی تاکید فرمائی۔انبیاء کی وصیت یاد دلائی کہ صدقہ اور دعا سے بلائل جاتی ہے۔" فرمایا کہ "اگر پیسہ پاس نہ ہو تو ایک بو کا ڈول) پانی کا کسی کو بھر دو۔" یعنی کنوئیں میں سے ڈول ڈالتے ہیں، ڈول ڈال کے پانی بھر دو یہ بھی صدقہ ہے۔" فرمایا کہ " اپنے مال اور بدن سے کسی کی خدمت کر دینی یہ بھی صدقہ ہے۔" پس اللہ تعالیٰ کے فضل کو حاصل کرنے کے لئے عبادتوں کی پابندی جہاں ضروری ہے وہاں ہر قسم کے ظلم و زیادتی سے بچنا بھی ضروری ہے اور لوگوں کے کام آنا بھی ضروری ہے۔گھروں میں بجائے زیادہ وقت دنیاوی شغلوں میں گزارنے کے نیکی کی باتیں کرنے کی طرف توجہ دلانے کی ضرورت ہے۔ایسی مجلسوں سے بچنے کی ضرورت ہے جہاں صرف ہنسی ٹھٹھا ہو رہا ہو۔دوسروں کا مذاق اڑایا جارہا ہو اور جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ معروف باتیں ہیں جو صدقہ ہیں۔لوگوں کے کام آنا بھی صدقہ ہے۔جو لو گوں کی مشکلات کو دور کرتا ہے وہ بھی صدقہ دیتا ہے۔پس اس طرف ہمیں توجہ دینی چاہئے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک موقع پر فرمایا کہ: ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 81-82) تمام مذاہب کے درمیان یہ امر متفق ہے کہ صدقہ خیرات کے ساتھ بلائل جاتی ہے اور بلا کے آنے کے