خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 82 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 82

خطبات مسرور جلد 15 82 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 24 فروری 2017 انسان کو یہ بھی علم ہونا چاہئے کہ کس غرض کے لئے دنیا میں آیا ہے اور یہ غرض جیسا کہ ہم جانتے ہیں اللہ تعالیٰ نے بیان بھی فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کر کے اس کا قرب حاصل کرنا ہے۔بہر حال پھر آپ فرماتے ہیں بہت بڑے کام کے لئے بھیجا گیا ہے لیکن جب وقت آتا ہے اور وہ اس کام کو پورا نہیں کرتا تو خدا اس کا تمام کام کر دیتا ہے۔خادم کو ہی دیکھ لو کہ جب وہ ٹھیک کام نہیں کرتا تو آقا اس کو الگ کر دیتا ہے۔پھر خدا تعالیٰ اس وجو د کو کیونکر قائم رکھے جو اپنے فرض کو ادا نہیں کرتا۔" آپ مثال دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ "ہمارے مرزا صاحب" یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے والد مرحوم و مغفور " پچاس برس تک علاج کرتے رہے۔ان کا قول تھا کہ ان کو کوئی حکمی نسخہ نہیں ملا۔سچ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کے اذن کے بغیر ہر ایک ذرہ جو انسان کے اندر جاتا ہے کبھی مفید نہیں ہو سکتا۔" فرمایا کہ " تو بہ و استغفار بہت کرنی چاہئے تا خدا تعالیٰ اپنا فضل کرے۔جب خدا تعالیٰ کا فضل آتا ہے تو دعا بھی قبول ہوتی ہے۔خدا نے یہی فرمایا ہے کہ دعا قبول کروں گا اور کبھی کہا کہ میری قضاء و قدر مانو۔" حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ " اس لئے میں تو جب تک اذن نہ ہو لے کم امید قبولیت کی کرتا ہوں۔بندہ نہایت ہی ناتواں اور بے بس ہے۔پس خدا کے فضل پر نگاہ رکھنی چاہئے۔" ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 319) اور اللہ تعالیٰ کے فضل پر نگاہ رکھنے کے لئے ہر وقت خدا تعالیٰ پر نگاہ رکھنے کی ضرورت ہے، اس سے مجڑے رہنے کی ضرورت ہے۔توبہ و استغفار کرنے کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنے اور اس کے بندوں کا حق ادا کرنے کی ضرورت ہے۔پھر اس بات کو بیان فرماتے ہوئے کہ رونا اور صدقات فرد قرار دادِ جرم کو رڈ کر دیتے ہیں، آپ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : " دعا بہت بڑی سپر کامیابی کے لئے ہے۔یونس کی قوم گریہ وزاری اور دعا کے سبب آنے والے عذاب سے بچ گئی۔" فرمایا کہ " میری سمجھ میں محا تبت مغاضبت کو کہتے ہیں " یعنی آپس میں غضبناک ہونا اور ایک دوسرے سے غصہ کرنا یا کسی بات پر غصہ کرنا۔فرمایا میری سمجھ میں تو محاتبت مغاضبت یعنی اس غصہ کے اظہار کو اور ناراضگی کو کہتے ہیں۔فرمایا کہ " اور حوت مچھلی کو کہتے ہیں اور نون تیزی کو بھی کہتے ہیں اور مچھلی کو بھی۔پس حضرت یونس کی وہ حالت ایک مغاضبت کی تھی۔" غصہ کی حالت تھی۔"اصل یوں ہے کہ عذاب کے ٹل جانے سے ان کو شکوہ اور شکایت کا خیال گزرا کہ پیشگوئی اور دعائیوں ہی رائیگاں گئی اور یہ بھی خیال گزرا کہ میری بات پوری کیوں نہ ہوئی۔پس یہی مغاضبت کی حالت تھی۔" فرمایا کہ " اس سے ایک سبق ملتا ہے کہ تقدیر کو اللہ بدل دیتا ہے اور رونا دھونا اور صدقات فردِ قرار دادِ جرم کو بھی رڈی کر دیتے ہیں۔" فرمایا کہ "اصول خیرات کا اسی سے نکلا ہے۔یہ طریق اللہ کو راضی کرتے ہیں۔" فرماتے ہیں کہ " علم تعبیر الرؤیا میں مال کلیجہ ہوتا ہے۔اس لئے خیرات کرنا جان دینا ہوتا ہے۔