خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 81 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 81

خطبات مسرور جلد 15 81 میں لگ جاؤ تا تمہاری باری ہی نہ آوے اور اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت کرے۔" خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 24 فروری 2017 ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 299) ابھی تو یہ چھوٹی سی مشکلات ہیں لیکن یہ چھوٹی چھوٹی مشکلات ہمیں سامنے نظر آرہی ہیں۔جس طرف دنیا جا رہی ہے، جس طرح انسان بے لگام ہو رہا ہے ، جس طرح اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کے سامان ہو رہے ہیں تو انسان اس تباہی کی طرف جارہا ہے جو انسان کے اپنے ہاتھوں سے ہوتی ہے۔یہ دنیا اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کو بھڑ کار ہی ہے۔پس ایسے وقت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماننے والوں کا یہ کام ہے کہ جہاں ہم اپنے آپ کو بد اثرات سے بچانے کے لئے تو بہ اور استغفار پر زور دیں وہاں عمومی طور پر دنیا کے لئے بھی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کو بھی عقل دے۔پھر استغفار کی حقیقت بیان کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مزید فرماتے ہیں کہ : " جاننا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے قرآن شریف نے دو نام پیش کئے ہیں۔الْحَیٰ اور الْقَيُّومُ - اَلْحَیٰ کے معنی ہیں خود زندہ اور دوسروں کو زندگی عطا کرنے والا۔الْقَيُّومُ خود قائم اور دوسروں کے قیام کا اصلی باعث۔ہر ایک چیز کا ظاہری باطنی قیام اور زندگی انہیں دونوں صفات کے طفیل سے ہے۔پس حتی کا لفظ چاہتا ہے کہ اس کی عبادت کی جاوے جیسا کہ اس کا مظہر سورۃ فاتحہ میں اِيَّاكَ نَعْبُدُ ہے۔اور اَلْقَيُّومُ چاہتا ہے کہ اس سے سہارا طلب کیا جاوے۔اس کو ايَّاكَ نَسْتَعِينُ کے لفظ سے ادا کیا گیا ہے۔"کی سکا فرمایا کہ "سحی کا لفظ عبادت کو اس لئے چاہتا ہے کہ اس نے پیدا کیا اور پھر پیدا کر کے چھوڑ نہیں دیا جیسے مثلاً معمار جس نے عمارت کو بنایا ہے اس کے مر جانے سے عمارت کا کوئی حرج نہیں ہے۔مگر انسان کو خدا کی ضرورت ہر حال میں لاحق رہتی ہے۔اس لئے ضروری ہوا کہ خدا سے طاقت طلب کرتے رہیں اور یہی استغفار ہے۔" اللہ تعالیٰ سے اگر گناہوں سے بچنے کی طاقت طلب کرتے رہیں، اس کی عبادتوں کے لئے طاقت طلب کرتے رہیں اور یہ طاقت طلب کرنا جو ہے فرمایا یہی استغفار ہے۔فرمایا که "اصل حقیقت تو استغفار کی یہ ہے۔پھر اس کو وسیع کر کے اُن لوگوں کے لئے کیا گیا کہ جو گناہ کرتے ہیں کہ ان کے بُرے نتائج سے محفوظ رکھا جاوے۔لیکن اصل یہ ہے کہ انسانی کمزوریوں سے بچایا جاوے۔" فرمایا کہ " پس جو شخص انسان ہو کر استغفار کی ضرورت نہیں سمجھتا وہ بے ادب دہر یہ ہے۔" (ملفوظات جلد 3 صفحہ 217) اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے اور توبہ و استغفار کی اہمیت بیان فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : انسان بہت بڑے کام کے لئے بھیجا گیا ہے۔" اس سے پہلے آپ نے اس کام کی تفصیل یہ بیان فرمائی کہ انسان اپنی حالت میں پاک تبدیلی پیدا کرے۔یہ بہت بڑا کام ہے انسان کے لئے کہ اپنی حالتوں میں پاک تبدیلی پیدا کرے اور خدا تعالیٰ سے صلح کرے۔اس کو ناراض نہ کرے اور پتا کرے کہ کس غرض کے لئے دنیا میں آیا ہے۔