خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 80 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 80

خطبات مسرور جلد 15 80 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 فروری 2017 اللہ تعالیٰ تو اس قدر مہربان ہے اور اپنے بندوں پر اس کی مہربانی کا یہ حال ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو لوگ اتنی کشائش نہ رکھتے ہوں کہ صدقہ دے سکیں تو معروف باتوں پر عمل کرنا اور بری باتوں سے رکنا ہی ان کو صدقہ کا ثواب دے دے گا۔(صحيح البخارى كتاب الزكاة باب على كل مسلم صدقة۔۔الخ حديث 1445) ان کی عبادتیں اور استغفار اور نیک عمل جو دوسرے کو فائدہ پہنچانے کے لئے ہیں وہ جہاں عبادتوں اور استغفار کی صورت میں اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول ہوں گی وہاں وہ نیک عمل صدقات کا ثواب بھی حاصل کر رہے ہوں گے۔ایک صاحب حیثیت شخص صدقات دے کر جو ثواب کما رہا ہو گا تو ایک غریب شخص اپنی نیک نیت کی وجہ سے بشر طیکہ وہ باقی احکامات پر عمل کر رہا ہے صدقات کا بھی برابر کا ثواب کمارہا ہو گا۔پس ایسے پیار کرنے والے خدا کا کس کس طرح ہمیں شکر ادا کرنا چاہئے جس نے نہ صرف ہمیں اپنی کمزوریوں سے بچنے کے طریق سکھائے بلکہ یہ بھی فرما دیا کہ میں تمہارے ان عملوں کو جو تم کمزوریوں اور گناہوں سے بچنے کے لئے کرتے ہو قبول کرتے ہوئے تمہیں مشکلات اور مصائب سے بھی نجات دوں گا۔پس مشکل حالات سے نکلنے کا صرف یہی ذریعہ ہے کہ ہم اپنی عبادتوں اور اپنی دعاؤں کو خالص کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے آگے جھکیں۔استغفار پر زور دیں۔جماعتی طور پر بھی اور انفرادی طور پر بھی صدقہ اور خیرات کی طرف توجہ کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے صدقہ اور استغفار کے مضمون کی گہرائی کو بیان کرتے ہوئے بہت سارے مختلف مواقع پر ارشادات فرمائے ہیں جن میں سے چند ایک میں بیان کر تاہوں۔استغفار کی حقیقت بیان فرماتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : گناہ ایک ایسا کیڑا ہے جو انسان کے خون میں ملا ہوا ہے مگر اس کا علاج استغفار سے ہی ہو سکتا ہے۔استغفار کیا ہے؟ یہی کہ جو گناہ صادر ہو چکے ہیں " جو گناہ ہم کر چکے ہیں " ان کے بد ثمرات سے خدا تعالیٰ محفوظ رکھے۔اور جو ابھی صادر نہیں ہوئے اور جو بالقوۃ انسان میں موجود ہیں " جن کا امکان ہے کہ ہو سکتے ہیں یا جس کی طاقتیں انسان میں موجود ہیں کہ وہ طاقتیں گناہ کی طرف لے جاسکتی ہیں " ان کے صدور کا وقت ہی نہ آوے۔" وہ گناہ ہم سے سرزد ہی نہ ہوں۔یہ استغفار ہے " اور اندر ہی اندر وہ جل بھن کر راکھ ہو جاویں۔" یعنی گزشتہ گناہوں کی معافی بھی اور آئندہ گناہوں سے بچنے کے لئے استغفار ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کار حم جوش میں آئے اور وہ ہمیں اپنی رحمتوں اور فضلوں سے نواز تار ہے۔فرمایا کہ " یہ وقت بڑے خوف کا ہے اس لئے توبہ واستغفار میں مصروف رہو اور اپنے نفس کا مطالعہ کرتے رہو۔ہر مذہب و ملت کے لوگ اور اہل کتاب مانتے ہیں کہ صدقات و خیرات سے عذاب ٹل جاتا ہے مگر قبل از نزول عذاب۔مگر جب نازل ہو جاتا ہے تو ہر گز نہیں ٹلتا۔پس تم ابھی سے استغفار کرو اور تو بہ