خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 79
خطبات مسرور جلد 15 79 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 24 فروری 2017 باتیں میسر آجاویں تو اکسیر ہیں۔اگر یہ دونوں باتیں میسر آجائیں تو ایک کامیاب علاج ہے۔( ملفوظات جلد 7 صفحہ 87-88 حاشیہ) پس استغفار بھی دعا ہی ہے اور جب انسان اپنے گناہوں سے اور اپنی کمزوریوں کو سامنے رکھتے ہوئے دعا کرتا ہے تو ایک رقت اور جوش پیدا ہوتا ہے اور ہونا چاہئے۔دل میں ایک درد پیدا ہونا چاہئے۔صرف منہ سے اسْتَغْفِرُ الله، اسْتَغْفِرُ الله کہنے اور توجہ اللہ تعالیٰ کی بجائے کہیں اور رہنے سے مقصد پورا نہیں ہو تا۔پس اللہ تعالیٰ دعاؤں کو سنتا ہے اور صدقات کو جو بے چینی کی حالت میں اللہ تعالیٰ کارحم حاصل کرنے کے لئے دیئے جاتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں قبول کرتا ہے۔اور جب بندہ یہ عہد بھی کرتا ہے کہ آئندہ میں اپنی کمزوریوں سے بچنے کی بھر پور کوشش کروں گا اور جب بندہ اللہ تعالی کار حم جذب کرنے کی کوشش کرے تو پھر اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے ہمیں یہ خوشخبری بھی دی، دعاؤں اور صدقات کو قبول کرنے کی مزید وضاحت فرمائی اور فرمایا کہ میرے بندوں کو بتادو کہ اگر میر ابندہ میری طرف ایک قدم چل کر آتا ہے تو میں اس کی طرف دو قدم چل کر آتا ہوں۔اگر میر ابندہ تیز چل کر میری طرف آتا ہے تو میں دوڑ کر آتا ہوں۔(صحيح البخارى كتاب التوحيد باب يُحذركم الله نفسه حديث 7405) پس اللہ تعالیٰ کے رحم کی کوئی انتہا نہیں۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تو بڑا حی والا ہے۔بڑا سخی ہے۔بڑا کریم ہے۔جب بندہ اس کے حضور اپنے ہاتھ بلند کرتا ہے تو وہ ان کو خالی ہاتھ اور ناکام واپس کرتے ہوئے شرماتا ہے۔(سنن الترمذی ابواب الدعوات باب ان الله حيى۔۔۔الخ حديث 3556) ہاں یہ ہو سکتا ہے جس طرح بندہ نتائج مانگتا ہے یا نتائج کی خواہش رکھتا ہے ضروری نہیں کہ اسی طرح اور اسی وقت اس کے نتائج ظاہر ہو جائیں۔بعض دفعہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے تحت کچھ عرصہ بعد اور کسی اور رنگ میں ان دعاؤں اور صدقات کے نتائج ظاہر ہو رہے ہوتے ہیں۔کبھی اسی طرح فوری طور پر نتائج ظاہر ہو جاتے ہیں۔پس یہ کامل ایمان ہونا چاہئے کہ خدا تعالیٰ نے جو فرمایا کہ میں دعاؤں کو سنتا ہوں۔میں استغفار قبول کرتا ہوں۔میں صدقات قبول کرتا ہوں یعنی جب انسان اپنے گناہوں سے معافی مانگ رہا ہو اور آئندہ گناہوں اور کمزوریوں سے بچنے کا عہد بھی کر رہا ہو اور بھر پور کوشش بھی کر رہا ہو تو وہ اس کو قبول کرتا ہے اور ہر قسم کی پریشانیوں اور مشکلات سے نکالتا ہے۔ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کا حال جانتا ہے اس لئے ہمارے دکھاوے کے عمل اس کے ہاں قبول نہیں ہوتے اور خالص ہو کر عمل کئے جائیں تو وہ جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ پھر بغیر نتیجہ یا اجر کے نہیں چھوڑتا۔