خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 78
خطبات مسرور جلد 15 78 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 24 فروری 2017 ہوئی ہے اور مولوی کے ڈر سے عدالتیں بھی انصاف نہ کرنے پر مجبور ہیں۔لیکن اب الجزائر میں بھی عدالتوں نے یہی رویے اپنا لئے ہیں کہ نام نہاد مولوی کے ڈر سے معصوم احمدیوں کو غلط الزام لگا کر جیل میں بھیجا جارہا ہے۔اس وقت بھی وہاں سولہ احمدی احمدیت کی وجہ سے جیل کی سزا کاٹ رہے ہیں تو ایسے میں ایک احمدی کو کیا کرنا چاہیے ؟ ہمارے پاس نہ دنیاوی حکومت ہے نہ ہی دنیاوی دولت اور تیل کا پیسہ ہے۔ہاں ایک چیز ہے جس کی طرف دنیا کے ہر احمدی کو بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے اور وہ ہے عبادات، صدقات اور استغفار کے ذریعہ خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا۔یہی چیزیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کے رحم کو جوش میں لاتی ہیں اور انسان اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتا ہے۔عبادات کی طرف اور خاص طور پر نمازوں کی ادائیگی کی طرف میں گزشتہ خطبات میں توجہ دلا چکا ہوں۔آج صدقات اور استغفار کے حوالے سے زیادہ بات کروں گا کہ یہ خدا تعالیٰ کے رحم کو حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں۔انسان کے اندر بے شمار کمزوریاں ہوتی ہیں بسا اوقات ہم دنیاوی کاموں کی مصروفیت کی وجہ سے اپنی عبادتوں کی ادا ئیگی کا بھی حق ادا نہیں کرتے۔کوئی ذاتی مشکل آئے تو تھوڑے سے صدقے کی طرف توجہ پیدا ہو جاتی ہے ورنہ نہیں۔استغفار کی طرف توجہ کا جو حق ہے وہ ادا نہیں کرتے۔اگر ہم میں سے ہر ایک اپنا جائزہ لے تو یہ چیز واضح ہو جائے گی کہ ہم میں سے اکثر یہ حق ادا نہیں کرتے۔پس اگر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنا ہے اور اس کے رحم کو جوش دلانے والا اور دشمنوں اور مخالفین کی کوششوں کو ناکام و نامراد کرنے والا بنا ہے تو ہمیں ان باتوں کی طرف بہر حال توجہ دینی ہو گی جو اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی بخشش کو حاصل کرنے والے ہیں۔جب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تو بہ اور استغفار اور صدقات قبول کرتا ہوں تو یہ اس لئے کہ تم تو بہ اور استغفار کی طرف توجہ دو تا کہ تمہاری مشکلات دور کروں۔تمہاری بے چینیاں دور کروں۔تمہیں اپنے قریب کروں۔تمہارے گزشتہ گناہوں کو معاف کروں۔تمہیں صحیح عبد بننے کی توفیق عطا کروں۔تم پر اپنار حم کروں۔جیسا کہ اس آیت میں بھی قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَأْخُذُ الصَّدَقَتِ وَانَّ اللهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ (التوبة :104) یعنی کیا انہیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور صدقات قبول کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہی ہے جو توبہ قبول کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔صدقہ اور دعا کی اہمیت اور تعلق کے بارے میں ایک موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ: " صدقہ۔صدق سے لیا گیا ہے۔جب کوئی شخص خدا تعالیٰ کی راہ میں صدقہ دیتا ہے تو معلوم ہوا کہ خدا سے صدق رکھتا ہے۔" سچائی کا تعلق رکھتا ہے۔"دوسرا دُعا۔" فرمایا کہ " دعا کے ساتھ قلب پر سوز و گداز اور رقت پیدا ہوتی ہے۔" دعا وہ ہے جو دل میں سوز اور رقت پیدا کرے۔" دعا میں ایک قربانی ہے۔صدق اور دعا اگر یہ دو