خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 77
خطبات مسرور جلد 15 8 00 77 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 24 فروری 2017 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 24 فروری 2017ء بمطابق 24 تبلیغ 1396 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: آجکل جو دنیا کے حالات ہیں سب کے علم میں ہیں۔ہر جگہ فساد اور فتنہ برپا ہے۔اسلام مخالف قوتیں ان حالات کا ذمہ دار، جیسے کہ میں کئی دفعہ کہہ چکا ہوں، مسلمانوں کو ٹھہراتی ہیں۔یہ بھی ٹھیک ہے کہ بعض مسلمان گر وہ اور تنظیمیں اسلام کے نام پر مسلمان ممالک میں بھی اور غیر مسلم ممالک میں بھی ایسی حرکات کر رہی ہیں جو ظلم و بربریت کے علاوہ کچھ نہیں اور اسلام کی تعلیم کا اس سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک منصوبہ بندی کے تحت مسلمانوں کے اندر یہ حالات پیدا کئے گئے ہیں اور کئے جار ہے ہیں۔اسلام کو نقصان عمومأخود غرض مسلمانوں اور منافقین نے ہی پہنچایا ہے جو اپنے مفادات کے لئے ایسی طاقتوں کا آلہ کار بنتے رہے ہیں۔بہر حال دنیا کے عمومی حالات خراب ہیں۔بعض مسلمانوں کے غلط عمل کی وجہ سے اسلام مخالف طاقتوں کو اسلام کو بد نام کرنے کا خوب موقع مل رہا ہے تو ظاہر ہے ہم احمدی مسلمان بھی اس وجہ سے اس کا نشانہ بنتے ہیں۔گو ہمیں جاننے والے جانتے ہیں کہ احمدیت کی تعلیم اور عمل محبت پیار اور بھائی چارے کے علاوہ کچھ نہیں لیکن عام لوگ ہمیں بھی اسی طرح خیال کرتے ہیں جیسا کہ میڈیا نے عام تصور مسلمانوں اور اسلام کے بارے میں پھیلایا ہوا ہے۔بعض ملکوں کی قوم پرست تنظیمیں اور پارٹیاں کوئی بات سنا ہی نہیں چاہتیں اور صرف منفی رویے اور سوچیں اور اس کے مطابق عمل پر ہی زور ہے۔اس مخالفت کا جر منی کے مشرقی حصہ میں بھی سامنا ہے اور ہالینڈ میں بھی جہاں عنقریب انتخابات ہونے والے ہیں۔اسی طرح یورپ کے اور ملکوں میں بھی رائٹسٹ (rightist) اب زور پکڑ رہے ہیں اور امریکہ کا حال تو سامنے ہی ہے اور پھر احمدی نہ صرف مسلمان ہونے کی حیثیت سے بلکہ مسلمان ممالک میں بھی احمدی ہونے کی حیثیت سے ان سختیوں سے گزر رہے ہیں۔صرف اس لئے کہ ہم نے آنے والے منادی کو جو اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق آیامان لیا۔پاکستان میں تو ظالمانہ قانون کی وجہ سے مولوی کو کھلی چھٹی ملی