خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 75
خطبات مسرور جلد 15 75 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 فروری 2017 ہونے کی کیفیت تازہ رہی اور یہ الہام اتنا واضح تھا کہ باوجود یکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس وقت فوت ہو چکے تھے جب میں اپنے بعض ہم عمروں سے سیر میں اس کا ذکر کر رہا تھا " تو " یکدم میرے ذہن سے آپ کی وفات کا خیال نکل گیا اور مجھے جوش پیدا ہوا کہ میں دوڑ کر جاؤں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے جاکر اس کا ذکر کروں۔" (خطبات محمود۔جلد 25 صفحہ 90) پھر آپ فرماتے ہیں کہ "چوتھی شہادت اس رؤیا کی تصدیق "جو رؤیا اللہ تعالیٰ نے مصلح موعود ہونے کی دکھائی " میرا یہ کشف ہے کہ میں نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بیت الدعا میں بیٹھا دعا کر رہا ہوں کہ یکدم مجھ پر ظاہر کیا گیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ابراہیم تھے۔پھر خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھ پر ظاہر کیا گیا کہ اس امت میں اور بھی کئی ابراہیم ہوئے ہیں۔چنانچہ حضرت خلیفہ اول کے متعلق بتایا گیا کہ آپ بھی ابراہیم ہیں اور آپ کا نام مجھے ابراہیم ادھم بتایا گیا۔ادھم ایک بادشاہ تھے جو بادشاہت کو چھوڑ کر تصوف کی طرف متوجہ ہو گئے تھے۔پس مجھے بتایا گیا کہ حضرت خلیفہ اول ابراہیم ادھم ہیں۔پھر مجھے بتایا گیا کہ ایک ابراہیم تم بھی ہو۔" (خطبات محمود۔جلد 25 صفحہ 90) پھر پانچویں شہادت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ "پانچویں شہادت جو اس بارے میں خدا تعالیٰ کی طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے قریب مجھے ملی یہ ہے کہ میں نے ایک دفعہ رویا میں دیکھا کہ ایک گھنٹی بجی ہے اور اس کی آواز ایسی ہے جیسے پیتل کا کوئی کٹورا ہو اور اسے کسی چیز سے ٹھکوریں تو اس میں سے ٹن کی آواز پیدا ہوتی ہے اس گھنٹی میں سے بھی ٹن کی آواز آئی مگر وہ آواز ایسی سریلی اور لطیف ہے کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ سارے جہان کی موسیقی کی لذت اس میں بھر دی گئی ہے۔یہ آواز بڑھتی گئی ، بڑھتی گئی یہاں تک کہ تمام جو میں متشکل ہو کر ایک فریم بن گئی۔" آسمان پر پھیل گئی۔فضا میں پھیل گئی اور ایک فریم کی شکل میں آ گئی۔" جیسے تصویر کا فریم ہوتا ہے۔پھر میں نے دیکھا کہ اس فریم میں ایک تصویر نمودار ہوئی جو کسی نہایت ہی حسین اور خوبصورت وجود کی ہے۔پھر وہ تصویر بلنی شروع ہوئی اور تھوڑی دیر کے بعد یکدم اس میں سے کود کر ایک وجود میرے سامنے آگیا جس کے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ وہ خدا کا فرشتہ ہے اور اس نے مجھے کہا آؤ میں تم کو سورہ فاتحہ کا درس دوں۔چنانچہ اس نے مجھے سورہ فاتحہ کا درس دینا شروع کر دیا اور دیتا گیا، دیتا گیا، دیتا گیا یہاں تک کہ وہ اياك نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ کی تفسیر شروع کرنے لگا تو کہنے لگا کہ آج تک جتنے مفسر ہوئے ہیں ان سب نے مَالِكِ يَوْمِ الدِّین تک تفسیر لکھی ہے لیکن میں تمہیں اس کے آگے بھی تفسیر بتاتا ہوں چنانچہ اس نے ساری سورۂ فاتحہ کی تفسیر مجھے پڑھادی۔جب میری آنکھ کھلی تو رؤیا میں اس فرشتہ نے جو باتیں مجھے بتائیں تھیں ان میں سے کچھ باتیں مجھے یاد تھیں لیکن میں نے ان کو نوٹ نہ کیا اور بعد میں میں خود بھی ان کو بھول گیا۔جب صبح میں نے اپنی اس رؤیا کا حضرت خلیفہ اول سے ذکر کیا اور یہ بھی کہا کہ خواب میں فرشتے نے جو باتیں بتائیں تھیں ان میں سے بعض آنکھ کھلنے