خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 74 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 74

خطبات مسرور جلد 15 74 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 17 فروری 2017 ماننے والوں کو تیرے کافروں پر اللہ تعالیٰ قیامت تک غلبہ دے گا اس میں اسی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک دن مجھے ظلتی طور پر نبیوں کا یعنی مسیح ناصری اور مسیح محمدی کا نام دینے والا ہے کیونکہ خلیفہ کی جماعت اس کی زندگی تک ہوتی ہے۔وفات کے بعد صرف نبیوں کی جماعت یا ان کے اظلال کی جماعت چلتی ہے۔اسی طرح كَفَرُوا کے الفاظ نے بھی اسی طرف اشارہ کیا ہے کہ خلافت کے بعد مجھے ایک اور رتبہ ملنے والا ہے جو بعض نبیوں کے ظل کے طور پر ہو گا۔سُبْحَانَ اللهِ لَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ " (خطبات محمود۔جلد 25 صفحہ 87 تا89) پھر آپ فرماتے ہیں کہ "دوسرے مجھے ایک کشف ہوا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں ہی میں نے دیکھا تھا وہ بھی اسی مقام پر دلالت کرتا ہے۔میں نے دیکھا کہ میں اس کمرہ سے نکل رہا ہوں جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام رہتے تھے اور باہر صحن میں آیا ہوں۔وہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تشریف رکھتے ہیں۔اس وقت کوئی شخص یہ کہہ کر مجھے ایک پارسل دے گیا ہے کہ یہ کچھ تمہارے لئے ہے اور کچھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے ہے۔کشفی حالت میں جب میں اس پارسل پر لکھا ہو اپتادیکھتا ہوں تو وہاں بھی مجھے دو نام لکھے ہوئے نظر آتے ہیں اور پتا اس طرح درج ہے کہ محی الدین اور معین الدین کو ملے۔" آپ فرماتے ہیں کہ "میں کشف میں سمجھتا ہوں کہ ان میں سے ایک نام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ہے اور دوسرا نام میرا ہے۔اس وقت چونکہ میں بچہ تھا اور حضرت محی الدین صاحب ابن عربی کا نام میں نے سنا ہو ا نہیں تھا، صرف اور نگ زیب کے متعلق میں جانتا تھا کہ ان کا نام محی الدین تھا۔اس لئے میں نے اس وقت سمجھا کہ محی الدین سے مراد میں ہوں اور حضرت معین الدین چشتی چونکہ ہندوستان میں ایک مشہور بزرگ گزرے ہیں اس لئے میں نے سمجھا کہ معین الدین سے مراد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہیں۔لیکن بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ حضرت محی الدین صاحب ابن عربی بھی ایک بہت بڑے بزرگ ہوئے ہیں تو میں نے سمجھا کہ محی الدین سے مراد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہیں جنہوں نے دین کو زندہ کیا اور معین الدین سے مراد میں ہوں جس نے دین کی اعانت کی۔پس دین کو زندہ کرنے والے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہیں اور دین کی نصرت اور اعانت کرنے والا میں ہوں جیسے ماں بچہ جنتی ہے اور دایہ دودھ پلاتی ہے۔" (خطبات محمود جلد 25 صفحہ 89-90) پھر تیسر ا ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ " تیسرا الہام جو مجھے اسی رنگ میں ہوا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد۔وہ یہ ہے کہ اعْمَلُوا ال دَاوُدَ شُكْرًا(سبا:14)۔اے آل داود ! تم اللہ تعالیٰ کے شکر کے ساتھ اس کے احکام پر عمل کرو۔اس الہام کے ذریعہ اعملُوا کہہ کر اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے منشاء پر پوری طرح عمل کرنے کا حکم دیا ہے اور آل داؤد کہ کر اللہ تعالیٰ نے مجھے حضرت سلیمان علیہ السلام سے مشابہت دی ہے۔حضرت سلیمان علیہ السلام حضرت داؤد علیہ السلام کے بعد خلیفہ ہوئے تھے اور ان کے بیٹے بھی تھے۔" آپ فرماتے ہیں " مجھے یاد ہے اس وقت یہ الہام اتنے زور سے ہوا کہ کتنی دیر تک مجھ پر اس الہام کے نازل