خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 75
خطبات مسرور جلد 14 75 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05 فروری 2016 آپ کے الفاظ میں یہ باتیں میں آپ کے سامنے رکھوں گا۔اگر ہم میں سے ہر ایک انصاف سے اپنا جائزہ لے تو بہت سے ایسے ہیں جن کو خود ہی پتا چل جائے گا کہ جو معیار حاصل کرنے کی طرف جماعت کو توجہ کرنی چاہئے جس کی طرف ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے توجہ دلائی ہے وہ معیار نہیں ہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں بھی حقیقی مومنوں کی یہی نشانی بتائی ہے کہ لَا يَشْهَدُونَ الزُّورَ ( الفرقان:73 ) کہ وہ جھوٹی گواہی نہیں دیتے۔پھر شرک اور جھوٹ کے بارے میں بتایا کہ ان سے بچو۔اکٹھا کیا شرک اور جھوٹ کو۔گویا جھوٹ کا گناہ بھی شرک کی طرح ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جو لفظ استعمال کیا ہے وہ جیسا کہ میں نے پڑھا" زُور " کا لفظ استعمال کیا ہے جس کے معنی ہیں جھوٹ، غلط بیانی، غلط گواہی، خدا تعالیٰ کے شریک ٹھہرانا، ایسی مجلسیں یا جگہیں جہاں جھوٹ عام بولا جاتا ہو۔اسی طرح گانے بجانے اور فضولیات اور غلط بیانیوں کی مجالس یہ ساری زُور کے معنوں میں آتی ہیں۔پس خدا تعالیٰ کے مومن بندے وہ ہیں جو جھوٹ نہیں بولتے۔جو ایسی جگہوں پر نہیں جاتے جہاں فضولیات اور جھوٹ بولنے والوں کی مجلس جمی ہو۔وہ اللہ تعالیٰ کا شریک نہیں بناتے۔نہ ہی ایسی جگہوں پر جاتے ہیں جہاں مشرکانہ کام ہو رہے ہوں۔اور پھر کبھی جھوٹی گواہیاں نہیں دیتے۔پس اگر ہم میں سے ہر ایک اس طرح جھوٹ سے بچے تو ایک ایسی تبدیلی وہ اپنے اندر پیدا کر سکتا ہے جو حقیقی مومن بناتی ہے۔بہر حال اب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خطاب کا وہ حصہ پیش کرتا ہوں جس میں جھوٹ کے بارے میں آپ نے فرمایا۔اس کو غور سے سنیں۔آج ہم میں سے بھی بہت یا کافی تعداد تو ایسی ہے جس کو اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔مسلمانوں کے بگڑنے اور ان کے تفرقے کی وجہ بیان فرماتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ "مسلمانوں میں اندرونی تفرقہ کا موجب بھی یہی حُبّ دنیا ہی ہوئی ہے۔"حُبّ دنیا کا پیچھے سے ایک ذکر چل رہا ہے۔اس بارے میں آپ نے فرمایا یہ حُب دنیا ہی ہے جو مسلمانوں میں پھاڑ ڈالنے کا موجب ہے " کیونکہ اگر محض اللہ تعالیٰ کی رضا مقدم ہوتی تو آسانی سے سمجھ میں آسکتا تھا کہ فلاں فرقے کے اصول زیادہ صاف ہیں اور وہ انہیں قبول کر کے ایک ہو جاتے۔اب جبکہ حُب دنیا کی وجہ سے یہ خرابی پید اہو رہی ہے تو ایسے لوگوں کو کیسے مسلمان کہا جاسکتا ہے جبکہ ان کا قدم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم پر نہیں" ہے۔فرمایا کہ " اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا تھا "کہ" قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله (آل عمران : 32)۔یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو اللہ تعالیٰ تم کو دوست رکھے گا۔اب اس حُبّ اللہ کی بجائے اور اتباع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بجائے حُب الدنیا کو مقدم کیا گیا ہے۔" آپ سوال اٹھاتے ہیں کہ " کیا یہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع ہے ؟ دین کو چھوڑ کر دنیا کی طرف ڈوب جاؤ " کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دنیا دار تھے ؟ کیا وہ سود لیا کرتے تھے ؟ یا فرائض اور احکام الہی کی بجا آوری میں غفلت کیا کرتے تھے ؟ کیا آپ میں معاذ اللہ نفاق تھا ؟ مداہنہ تھا؟ دنیا کو