خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 76
خطبات مسرور جلد 14 76 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05 فروری 2016 دین پر مقدم کرتے تھے ؟ غور کرو۔اتباع تو یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلو " آپ تو دین کو دنیا پر مقدم کرتے تھے نہ کہ دنیا کو دین پر " اور پھر دیکھو کہ خدا تعالیٰ کیسے کیسے فضل کرتا ہے "۔فرمایا کہ " آپ کے نقش قدم پر چلو اور پھر دیکھو کہ خدا تعالیٰ کیسے کیسے فضل کرتا ہے۔صحابہ نے وہ چلن اختیار کیا تھا۔پھر دیکھ لو کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں کہاں سے کہاں پہنچایا۔انہوں نے دنیا پر لات مار دی تھی اور بالکل حُب دنیا سے الگ ہو گئے تھے۔اپنی خواہشوں پر ایک موت وارد کر لی تھی۔اب تم اپنی حالت کا ان سے مقابلہ کر کے دیکھ لو۔کیا انہیں کے قدموں پر ہو ؟ افسوس اس وقت لوگ نہیں سمجھتے کہ خدا تعالیٰ ان سے کیا چاہتا ہے ؟ رأْسُ كُلّ خَطْئَةٍ نے بہت سے بچے دے دیئے ہیں۔فرمایا کہ " کوئی شخص عدالت میں جاتا ہے تو دو آنے لے کر جھوٹی گواہی دے دینے میں ذرا شرم و حیا نہیں کرتا۔کیا وکلاء قسم کھا کر کہہ سکتے ہیں کہ سارے کے سارے گواہ سچے پیش کرتے ہیں۔" ( ملفوظات جلد 8 صفحہ 348-349) حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کے حوالے سے ایک واقعہ بیان کیا۔وہ مجسٹریٹ تھے۔کہتے ہیں ایک دفعہ میرے پاس ایک شخص آیا جس کو میں جانتا تھا۔تاریخ تھی گواہوں کی پیشی ہونی تھی۔اس نے کہا کہ مجھے اگلی تاریخ دے دیں میرے گواہ نہیں حاضر ہوئے۔تو حضرت مرزا سلطان احمد صاحب نے اسے مذاق سے کہا کہ میں تو تمہیں بڑا عقل مند سمجھتا تھا تم تو بڑے بیوقوف نکلے۔گواہ کہاں سے تم نے لانے ہیں۔باہر جاؤ کسی کو آٹھ آنے روپیہ دووہ تمہارے گواہ بن کے آجائیں گے۔خیر وہ شخص باہر چلا گیا اور تھوڑی دیر بعد دو تین آدمی گواہ لے آیا اور گواہ سے جب حضرت مرزا سلطان احمد صاحب جرح کرتے تھے تو وہ جواب دیتا ہاں میں نے دیکھا اس طرح واقعہ ہوا ہے ، اس طرح واقعہ ہوا ہے۔حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کہتے ہیں کہ میں دل دل میں ہنس رہا تھا بلکہ اس کے سامنے ہی ہنس رہا تھا کہ میرے کہنے پہ یہ باہر گیا ہے، گواہ لے کے آیا ہے اور گواہ کتنی صفائی سے میرے سامنے جھوٹ بول رہے ہیں اور خدا کی قسم کھا کر ، قرآن ہاتھ میں پکڑ کر جھوٹ بول رہے ہیں۔تو اس کے بعد جب انہوں نے گواہی دے دی۔میں نے انہیں کہا تمہیں شرم نہیں آتی کہ قرآن ہاتھ میں پکڑ کر قرآن کے اوپر گواہی دے رہے ہو اور میرے سامنے لے کے آئے ہو۔(ماخوذ از اپنے اندر سچائی، محنت اور ایثار کے اوصاف پیدا کرو۔انوار العلوم جلد 22 صفحہ 291) تو یہ گواہوں کا حال ہے اور آج بھی یہی حال ہے۔جماعت کے خلاف تو مقدمات میں ہمیں اکثر نظر آتا ہے کہ بہت سارے لوگ جو موجود بھی نہیں ہوتے وہ گواہ بن کے کسی کے مقدمے میں پیش ہو جاتے ہیں۔تو بہر حال فرماتے ہیں کہ " آج دنیا کی حالت بہت نازک ہو گئی ہے۔جس پہلو اور رنگ سے دیکھو جھوٹے گواہ بنائے جاتے ہیں۔جھوٹے مقدمہ کرنا تو بات ہی کچھ نہیں۔جھوٹے اسناد بنا لیے جاتے ہیں۔سارے کاغذات