خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 74
خطبات مسرور جلد 14 74 6 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05 فروری 2016 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 105 فروری 2016ء بمطابق 05 تبلیغ 1395 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن۔لندن تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں ایک جلسے پر ایک صاحب نے اپنی تقریر میں کہا کہ حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کے سلسلہ اور دوسرے مسلمانوں میں صرف اس قدر فرق ہے کہ وہ مسیح ابن مریم کا زندہ آسمان پر جانا تسلیم کرتے ہیں اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ وہ وفات پاچکے ہیں۔اس کے علاوہ کوئی ایسا امر نہیں جو ہمارے در میان اور ان کے درمیان قابل نزاع ہو۔کیونکہ اس بات سے بہت سی باتیں اور آپ کی بعثت کا مقصد واضح نہیں ہو تا تھا اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے باوجو د طبیعت کی خرابی کے اس دن اس بات کا نوٹس لیا کہ صرف اتنا فرق نہیں ہے۔آپ نے 27 / دسمبر 1905ء کو خود اس بات کی وضاحت کے لئے ایک تقریر فرمائی جس میں آپ نے فرمایا کہ میری بعثت کا مقصد صرف اتنے سے فرق کو ظاہر کرنا نہیں ہے۔اتنی سی بات کے لئے، اتنے چھوٹے کام کے لئے اللہ تعالیٰ کو سلسلہ قائم کرنے کی ضرورت نہیں تھی بلکہ اس میں آپ نے بہت سی باتیں بیان فرمائیں۔حضرت مسیح موعود کی بعثت کا مقصد (ماخوذ از ملفوظات جلد 8 صفحہ 334-335) فرمایا ٹھیک ہے وفات مسیح کے عقیدہ کا ایک فرق ہے۔اور پھر آپ نے فرمایا کہ مسلمانوں کی عملی حالت بھی بگڑ چکی تھی اور اس بارے میں پھر آپ نے تفصیل سے فرمایا۔ان عملی حالتوں کے بارے میں جو باتیں آپ نے بیان فرمائیں جو مسلمانوں کے زوال کا باعث بن رہی ہیں اور جن کی اصلاح کے لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھیجا ہے ان میں سے ایک جھوٹ سے بچنا اور سچائی کا قیام ہے۔اور آپ نے جماعت کو اس حوالے سے نصیحت کی کہ اپنے سچائی کے معیاروں کو بلند کرو اور اپنے اور غیر میں اس فرق کو ظاہر کرو۔صرف ایمان لے آنا اور آپ کی بعثت کو سچامان لینا کچھ کام نہیں آتا۔