خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 72
خطبات مسرور جلد 14 72 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 جنوری 2016 درجہ کی روحانی باتیں سننے کی ان میں استعداد ہی نہیں ہے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ یہی بعض مردوں کا حال ہے۔بلکہ میں تو کہوں گا کہ بہت سے مردوں کا اب یہ حال ہے۔اب بعض جگہ تو اس کے الٹ بھی ہو رہا ہے کہ بعض عورتیں مردوں سے زیادہ علم رکھتی ہیں اور جب اپنے مردوں کو یاد کرواتی ہیں کہ یہ دین کی بات ہے اس پر عمل کرو تو بعض ایسی شکایتیں بھی آتی ہیں کہ مردوں کا جواب ہوتا ہے کہ دین تو بہت کچھ کہتا ہے ہم تو اسی طرح رہیں گے اور اسی طرح کریں گے جو ہماری مرضی ہو۔تو یا درکھنا چاہئے کہ جب اس قسم کی ڈھٹائی آجائے تو پھر گراوٹ ہوتی چلی جاتی ہے اور پھر انسان دین سے بالکل دُور ہٹ جاتا ہے۔بہر حال حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہاس کے مقابلے پر صحابہ کو دیکھو۔وہ کس طرح رات اور دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کو سنتے اور ان پر عمل کرنے کے لئے کھڑے ہو جاتے۔انہوں نے آپ کی چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی بات کو لیا اور دنیا میں نہ صرف اس کو پھیلا دیا بلکہ اس پر عمل کر کے بھی دکھا دیا۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتابیں ہیں۔ان کو پڑھنا اور ان سے فائدہ اٹھانا بھی جماعت کے اہم ترین فرائض میں سے ہے۔مگر یاد رکھو صرف لذت حاصل کرنے کے لئے تم ایسا مت کرو بلکہ فائدہ اٹھانے اور عمل کرنے کی نیت سے تم ان امور کی طرف توجہ کرو۔تم لذت حاصل کرنے کے لئے سارا قرآن پڑھ جاؤ تو تمہیں کچھ فائدہ حاصل نہیں ہو گا۔لیکن اگر تم اللہ تعالیٰ کی صفات پر غور کرتے ہوئے اس کی محبت کے جوش میں ایک دفعہ بھی سُبحان اللہ کہ لو توہ تمہیں کہیں کا کہیں پہنچا دے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک دفعہ مجلس میں بیان فرمایا کہ بعض دفعہ ہم تسبیح کرتے ہیں تو ایک تسبیح سے ہی ہم کہیں کے کہیں پہنچ جاتے ہیں۔میں اس مجلس میں موجود نہیں تھا۔ایک نوجوان نے یہ بات سنی تو وہاں سے اٹھ کر میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ خبر نہیں آج حضرت صاحب نے یہ کیا کہا ہے۔وہ صاحب تجربہ نہیں تھا مگر میں اس عمر میں بھی صاحب تجربہ تھا حالانکہ میری عمر اس وقت سترہ اٹھارہ سال کی تھی۔میں نے جب اس سے یہ بات سنی تو میں نے کہا ہاں ایسا ہوتا ہے۔کہنے لگا کس طرح؟ میں نے کہا کئی دفعہ میں نے دیکھا ہے کہ میں نے اپنی زبان سے ایک دفعہ سبحان اللہ کہا تو مجھے یوں معلوم ہوا کہ جیسے میری روحانیت اُڑ کر کہیں سے کہیں جا پہنچی ہے۔وہ دل سے نکلی ہوئی سبحان اللہ ہوتی ہے۔صرف منہ سے نہیں ہوتی۔تو وہ یہ سنتے ہی نہایت تحقیر سے کہنے لگا کہ لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلَّا بِاللہ۔اس کی وجہ یہی تھی کہ اس نے کبھی سنجیدگی سے سُبحان اللہ کے مضمون پر غور ہی نہیں کیا۔اسے سارا سارا دن سبحان اللہ کہہ کر کچھ نہیں ملتا تھا مگر میں اپنے ذاتی تجربے کی وجہ سے جانتا تھا کہ کئی دفعہ ایسا ہوا کہ جب میں نے سبحان اللہ کہا تو مجھے یوں محسوس ہوا کہ پہلے میں اور تھا اور اب میں کچھ اور بن گیا ہوں۔دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس مضمون کو کس عمدگی کے ساتھ بیان کیا ہے حالانکہ میں نے اس وقت تک بخاری نہیں پڑھی تھی مگر میرا تجربہ صحیح تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ كَلِمَتَانِ