خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 71 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 71

خطبات مسرور جلد 14 71 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 جنوری 2016 کہ بیشک یہ ایک قصہ ہے مگر اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح کبوتر ہاتھ سے نکل جاتا ہے اسی طرح ایمان اس کے دل سے نکل گیا۔پس چونکہ ایمان محنت سے آتا ہے اور جاتا ایک فقرہ میں ہے۔ایمان لانا، قبول کرنا، کسی چیز کو تسلیم کرنا، اور پھر اس ایمان میں بڑھنا اس پر بڑی محنت لگتی ہے۔لیکن ایک معمولی سی بات ہے، جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے خلاف ایک فقرہ ہے، ایک بات ہے جس سے پھر ایمان ضائع ہو جاتا ہے۔اس لئے ضرورت ہے کہ انسان ہر وقت ہوشیار رہے۔اپنا محاسبہ کرتا رہے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 6 صفحہ 340-341) ذکر الہی کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حوالے سے توجہ دلاتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کسی بزرگ کا یہ مقولہ سنایا کرتے تھے کہ دست در کار ودل بایار۔یعنی انسان کے ہاتھ تو کاموں میں مشغول ہونے چاہئیں لیکن اس کا دل اللہ تعالی کی طرف متوجہ ہونا چاہئے۔اسی طرح ایک بزرگ کے متعلق مشہور ہے کہ ان سے کسی نے پوچھا کہ میں کتنی دفعہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا کروں۔انہوں نے کہا کہ محبوب کا نام لینا اور پھر گن گن کر۔تو اصل ذکر وہی ہے جو ان گنت ہو۔مگر ایک معین وقت مقرر کرنے میں یہ خوبی ہوتی ہے کہ انسان اُس وقت اپنے محبوب کے لئے اور کاموں سے بالکل الگ ہو جاتا ہے۔اور چونکہ یہ دونوں حالتیں ضروری ہیں اس لئے صحیح طریق یہی ہے کہ معین رنگ میں بھی ذکر الہی کیا جائے آجکل دنیاداری میں پڑے ہوئے لوگ اس بات کو نہیں سمجھتے۔اس لئے ان کو بہر حال وقت نکالنا چاہئے۔وقت بھی نکالیں اور غیر معین طور پر بھی اٹھتے بیٹھتے اللہ تعالیٰ کو یاد کیا جائے اور اس کے فضلوں اور احسانات کا بار بار ذکر کیا جائے۔(ماخوذ از تفسیر کبیر جلد ہفتم صفحہ 309) دین کی باتوں کو غور سے سننا، انہیں یا درکھنے کی کوشش کرنا اور پھر اس پر عمل کرنا یہ ایک احمدی کا مصطلح نظر ہونا چاہئے۔خطبوں کو سن لینا، تقریروں کو سن لینا، اجلاسوں میں شامل ہو جانا یا وقتی طور پر کسی کتاب کو پڑھ لینا اور اس کا وقتی اثر لینا، اس کو یاد نہ رکھنا یا عمل نہ کرنا یہ انسان کو کوئی فائدہ نہیں دیتا۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک دفعہ عورتوں میں ان کی تربیت کے لئے مختلف لیکچر دینے شروع کئے اور کئی دن تک آپ لیکچر دیتے رہے۔ایک دن آپ نے فرمایا کہ ہمیں عورتوں کا امتحان بھی لینا چاہئے تا معلوم ہو کہ وہ ہماری باتوں کو کہاں تک سمجھتی ہیں۔باہر سے ایک خاتون آئی ہوئی تھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان سے پوچھا۔بتاؤ مجھے آٹھ دن لیکچر دیتے ہو گئے ہیں۔میں نے ان لیکچروں میں کیا بیان کیا ہے۔وہ کہنے لگیں کہ یہی خدا اور رسول کی باتیں آپ نے بیان کی ہیں اور کیا بیان کیا ہے۔آپ کو اس جواب سے اس قدر صدمہ ہوا کہ آپ نے لیکچروں کے اس سلسلے کو بھی بند کر دیا اور فرمایا کہ ہماری عورتوں میں بھی اس قسم کی غفلت پائی جاتی ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ ابھی وہ بہت ابتدائی تعلیم کی محتاج ہیں۔اعلیٰ