خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 70
خطبات مسرور جلد 14 70 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 جنوری 2016 پس معاشرے کے امن کے لئے ، سکون کے لئے، اس بات کا بھی ہر ایک کو خیال رکھنا چاہئے کہ ایک دوسرے کے جذبات کا بھی خیال رکھیں اور بلا وجہ ایسی زبانوں کے تیر نہ چلائیں جو ان کے زخم پھر ہمیشہ ہرے رہیں۔اور یہ ایسا سبق ہے جسے ہمیشہ ہر احمدی کو یاد رکھنا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ماننے کے بعد اپنے ایمان کی حفاظت ہر احمدی کا فرض ہے اور بعض دفعہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہی ہیں جو ایمان کو ضائع کر دیتی ہیں۔جیسا کہ میں نے بتایا کہ ایک شخص اپنے دوست کی مدد کرنے کی وجہ سے بعد میں پھر ایمان سے ہی جاتا رہا اور مرتد ہو گیا۔بعض دفعہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی منشاء کے خلاف باتیں کی جائیں تو ایمان ضائع ہو جاتا ہے۔پس ہمیں ہمیشہ اپنا محاسبہ کرتے رہنا چاہئے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ کے قصے میں اس کی مثال موجود ہے اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اس قصے کو بار ہا بیان فرمایا کرتے تھے۔کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ جب مصر سے نکلے تو راستے میں عمالیق سے مقابلہ آن پڑا۔یہ حضرت نوح کی اولاد میں سے ایک قبیلہ تھا جو کہا جاتا ہے اسرائیلیوں کے بڑا خلاف تھا۔بہر حال ان کے بادشاہ کو خطرہ ہوا کہ ہم شکست کھا جائیں گے۔ان کے ہاں ایک بزرگ تھا۔بادشاہ نے اس سے دعا کی درخواست کی۔اس نے دعا کی تو خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا کہ موسیٰ خدا کا نبی ہے۔اس کے خلاف دعا نہیں کرنی چاہئے۔اس نے بادشاہ کو کہہ دیا کہ موسیٰ کے خلاف دعا نہیں ہو سکتی۔جب بادشاہ کو معلوم ہوا کہ میری کوئی بات کارگر نہیں ہوتی تو اس نے وہی چال چلی جو آدم کو جنت سے نکلوانے کے لئے شیطان نے چلی تھی۔ہمیشہ سے شیطان کا یہی اصول رہا ہے۔حوا کے ذریعہ سے پھسلایا تھا اسی طرح اس نے بھی بہت سے زیورات وغیرہ تیار کرائے اور موسیٰ کے برخلاف دعا کرانے کے لئے اس بزرگ کی بیوی کو دیئے۔اس نے تحریک کی مگر اس بزرگ نے جواب دیا کہ موسیٰ خدا کا مقرب ہے۔اس لئے اس کے خلاف بد دعا نہیں ہو سکتی۔میں نے کی تھی مگر وہاں سے جواب مل گیا ہے۔لیکن وہ مصر ہوئی اور کہا کہ کیا ضرور ہے کہ اب بھی وہی حالات ہوں تم بد دعا تو کرو۔آخر وہ رضامند ہو گیا۔اس کو ایک جگہ لے گئے۔اس نے کہا کہ یہاں سینہ نہیں کھلتا۔اور اس طرح دو تین جگہ بدلی گئیں۔آخر چونکہ اس بزرگ کا ایمان جانا تھا اس نے بددعا کی۔کہتے ہیں کہ جو نہی اس نے بددعا کی موسیٰ کی قوم میں تباہی پڑ گئی کیونکہ اس کے پہلے ایمان کا کچھ تو اثر ہونا تھا۔یعنی کہ ان کی جو ایمان کی کمزوری تھی۔اس قوم میں تباہی ان کے اپنے ایمان کی کمزوری کی وجہ سے ہوئی۔انہوں نے ایک عارضی طور پہ نقصان اٹھایا۔اور ادھر یہ بزرگ جو بنا ہوا تھا اس کا ایمان کبوتر کی شکل میں اڑ گیا۔اس کا ایمان بھی ختم ہو گیا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے منع کیا تھا کہ دعا نہیں کرنی لیکن دعا کی اور اس کو سزا یہ ملی کہ آئندہ سے موسیٰ کے خلاف دعا کرنے کی وجہ سے اس کی بزرگی کا جو رتبہ تھا، مقام تھا وہ ختم ہو گیا۔اور اللہ تعالیٰ کے حضور قرب کا جو اعزاز تھا وہ بھی ضائع ہو گیا۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں