خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 69 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 69

خطبات مسرور جلد 14 69 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 جنوری 2016 ظالم ہو یا مظلوم۔صحابہ نے عرض کیا۔یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔یہ کیا بات ہے کیا ہم ظالم کی مدد بھی کیا کریں۔آپ نے فرمایا: جب تو ظالم کا ہاتھ ظلم سے روکے تو تو اس کی مدد کرتا ہے۔" (خطبات محمود جلد 13 صفحہ 204-205) پس اصل مطلب یہ نہیں کہ اپنے دوست کی ہر حال میں مدد کرو اور اس کی مرضی کے مطابق چلو بلکہ اصل دوستی یہ ہے کہ دوست کے فائدے کے لئے اس کے خلاف بھی چلنا پڑے تو چلو۔اگر ایسا نہیں کرتے تو اسے تباہ کرتے ہو یا کسی اور ذریعہ سے اسے نقصان پہنچاتے ہو۔اکثر لوگ اس بات کو سمجھتے نہیں ہیں۔حضرت مصلح موعودؓ نے وہاں قادیان کی ایک مثال دی جب یہ فرمایا تھا کہ کسی شخص کا کسی سے جھگڑا ہوا۔اس کے ایک دوست نے بغیر سوچے سمجھے ، ناحق دوستی کا حق ادا کرنے کے لئے یا دوستی کا حق ادا کرنے کے دھوکے میں اس جھگڑے میں خوب حصہ لیا۔پہلا شخص تو اپنی فطری نیکی کی وجہ سے پھر اپنی جگہ پر آگیا، جھگڑا ختم ہو گیا، صلح ہو گئی اور یہ دوست جس نے اس کی خاطر اس میں حصہ لیا تھا اس جھگڑے میں مرتد ہو گیا۔پس دوستیاں جہاں اللہ تعالیٰ کا قرب دلاتی ہیں، دوستوں کو فائدہ دلاتی ہیں، وہاں بعض دفعہ دوستوں کی تباہی و بربادی بھی کرتی ہیں اور اپنی بھی کرتی ہیں۔پس اس لحاظ سے ہمیشہ دوستیوں کے حق ادا کرنے کے لئے عقل بھی استعمال کرنی چاہئے اور جذبات کو بھی کنٹرول رکھنا چاہئے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ مجھے یاد ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سنایا کرتے تھے کہ کوئی ریچھ تھا۔اس کا ایک آدمی سے دوستانہ تھا۔اس کی بیوی ہمیشہ اسے طعن کیا کرتی تھی کہ تو بھی کوئی آدمی ہے تیر ار کچھ سے دوستانہ ہے۔ایک دن اس کی دل آزار گفتگو اس قدر بڑھ گئی اور ایسی بلند آواز سے اس نے کہنا شروع کیا کہ ریچھ نے بھی سن لیا۔ریچھ نے تب ایک تلوار لی اور اپنے دوست سے کہا کہ یہ تلوار میرے سر پر مارو۔اس گفتگو کے متعلق حیرت نہیں ہونی چاہئے۔یہ صرف ایک کہانی ہے یہ بتانے کے لئے کہ کوئی آدمی ریچھ کی شکل کا ہوتا ہے اور کوئی انسان کی صورت کا۔ہر ایک کی فطرت ہوتی ہے۔انسانوں میں بھی کئی ریچھ ہوتے ہیں۔کئی انسان کہلا کر بھی دوسرے حیوان بنے ہوتے ہیں۔اس شخص نے بہتیرا انکار کیا مگر ریچھ نے کہا کہ ضرور میرے سر پر مار۔آخر اس نے تلوار اٹھائی اور ریچھ کے سر پر ماری۔وہ لہولہان ہو گیا اور جنگل کی طرف چلا گیا۔ایک سال کے بعد پھر اپنے دوست کے پاس آیا اور کہنے لگا میر اسر دیکھ۔کہیں زخم کا نشان ہے ؟ اس نے دیکھا تو کہیں زخم کا کوئی نشان دکھائی نہیں دیا۔تب ریچھ نے کہا کہ بعض جنگل میں بوٹیاں ہوتی ہیں۔میں نے علاج کیا اور زخم اچھا ہو گیا۔لیکن تیری بیوی کے قول کا زخم، جو تیری بیوی میرے خلاف باتیں کرتی تھی اس کا زخم آج تک میرے دل میں ہرا ہے۔تو بعض اوقات تلوار کے زخم سے زبان کا زخم بہت شدید ہوتا ہے اور یہ تلوار ایساز خم لگاتی ہے جو کبھی بھولنے میں نہیں آتا۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 14 صفحه 32)