خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 68 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 68

خطبات مسرور جلد 14 68 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 29 جنوری 2016 فضول اور لغو کہانیاں بھی سنائی جائیں تو یہ مقصد حاصل ہو جاتا ہے مگر ہم اس پر خوش نہیں ہوتے بلکہ چاہئے کہ ایسی کہانیاں سنائیں کہ اس وقت بھی فائدہ ہو۔(ماخوذ از الفضل 28 مارچ 1939ء صفحہ نمبر 2 جلد 27 نمبر (71) اس بات کو بیان کرتے ہوئے کہ دوستیاں ہمیشہ ایسی ہونی چاہئیں جو بربادی کا موجب نہ ہوں، حضرت مصلح موعودؓ نے ایک واقعہ بیان فرمایا کہ "حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے " یہ پرانی حکایت ہے کہ ایک شخص کار کچھ سے دوستانہ تھا۔اس نے اسے پالا تھا یا کسی مصیبت کے وقت اس پر احسان کیا تھا۔اس وجہ سے وہ اس کے پاس بیٹھا کرتا تھا۔یہ گویا ایک حکایت ہے جو حقیقت بیان کرنے کی غرض سے بنائی گئی ہے۔اگر چہ ایسا بھی ہو جاتا ہے کہ آدمی ریچھ وغیرہ جانوروں کو پال کر اپنے ساتھ ہلا لیتا ہے۔مگر جب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کوئی حکایت روایت کرتا ہوں تو اس کے یہی معنی ہوتے ہیں کہ یہ حقیقت بیان کرنے کی غرض سے ایک قصہ ہے۔" یعنی ایک نصیحت کرنے کی غرض سے ایک قصہ ہے۔" یہ میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ تادشمن یہ اعتراض نہ کرے کہ یہ ایسے بیوقوف لوگ ہیں کہ سمجھتے ہیں کہ ریچھ انسانوں کے پاس آکر بیٹھتے ہیں۔یہ پرانی حکایتیں سبق حاصل کرنے کے لئے ہوتی ہیں اور ان سے مراد ایسے خصائل رکھنے والے انسان ہوتے ہیں۔" یعنی بعض لوگ ایسے خصائل رکھتے ہیں کہ وہ وہی حرکتیں کر رہے ہوتے ہیں۔" مثلاً پرانی حکایتوں میں بادشاہ کے دربار کو شیر کا در بار اور اس کے امراء ووزراء کو دوسرے جانوروں کی صورت میں پیش کیا جاتا تھا اور اس طرح وہ بادشاہ بھی جس کے متعلق بات ہوتی نہایت مزے لے لے کر پڑھتا۔خیر ، تور کچھ اس آدمی کا دوست تھا اور اس کے پاس آتا تھا۔ایک دن اس کی والدہ بیمار پڑی تھی اور وہ پاس بیٹھا پنکھا ہلا رہاتھا اور مکھیاں اڑا رہا تھا۔اتفاقاً اسے کسی ضرورت کے لئے باہر جانا پڑا اور اس نے ریچھ کو اشارہ کیا کہ تم ذرا لکھیاں اڑاؤ۔میں باہر ہو آو کی۔ریچھ نے اخلاص سے یہ کام شروع تو کر دیا مگر انسان اور حیوان کے ہاتھ میں فرق ہوتا ہے اور حیوان ایسی آسانی سے ہاتھ نہیں ہلا سکتا جتنی آسانی سے انسان ہلا سکتا ہے۔وہ مکھی اڑائے لیکن وہ پھر آ بیٹھے۔پھر اڑائے پھر آبیٹھے۔اس نے خیال کیا کہ مکھی کا بار بار آکر بیٹھنا میرے دوست کی ماں کی طبیعت پر بہت گراں گزرتا ہو گا۔چنانچہ اس کا علاج کرنے کے لئے اس نے ایک بڑا سا پتھر اٹھایا اور اسے دے مارا تا مکھی مر جائے۔مکھی تو مر گئی مگر ساتھ ہی اس کے دوست کی ماں بھی کچلی گئی۔یہ ایک مثال ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ بعض نادان کسی سے دوستی کرتے ہیں مگر دوستی کرنے کا ڈھنگ نہیں جانتے۔وہ بعض دفعہ خیر خواہی کرتے ہیں مگر ہوتی دراصل تباہی ہے۔اگر اپنے دوست کے سچے خیر خواہ ہوتے تو بے ایمانی کی طرف نہ لے جاتے بلکہ اگر اسے اس طرف مائل بھی دیکھتے تو اسے روکتے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوستی کا نقشہ کیا خوب کھینچا ہے۔فرمایا اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ