خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 67 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 67

خطبات مسرور جلد 14 67 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 جنوری 2016 مگر کہانیوں کا زمانہ کھیل سے نیچے کا زمانہ ہے۔(ماخوذ از الفضل 28مارچ 1939ء صفحہ نمبر 2 جلد 27 نمبر 71) پس باپوں کو بھی بچوں کو وقت دینا چاہئے۔اگر ماں باپ دونوں مل کر بچوں کی تربیت پر زور دیں۔ان کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھیں۔ان کی صحیح تربیت کریں۔ان کو اپنے ساتھ جوڑیں تو یقیناً بہت سے تربیت کے مسائل حل ہو جائیں جس کی ماں باپ کو شکایت رہتی ہے۔پھر ایک جگہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس بارے میں فرماتے ہیں کہ بچپن میں جو کہانیاں بچوں کو سنائی جاتی ہیں ان کا مقصد تو یہ ہوتا ہے کہ بچہ شور نہ کرے اور ماں باپ کا وقت ضائع نہ کرے۔یہ بھی ایک مقصد ہوتا ہے۔اگر وہ کہانیاں ایسی ہوں جو آئندہ زندگی میں بھی فائدہ دیں تو یہ کتنی اچھی بات ہے۔آجکل تو ماں باپ اس بات سے بچنے کے لئے کہ بچے شور نہ کریں اور علیحدہ بیٹھے رہیں ان کے ہاتھوں میں یا آئی پیڈ (Ipad) پکڑا دیتے ہیں یا کمپیوٹر پہ بٹھا دیتے ہیں یاٹی وی پہ بٹھا دیتے ہیں اور وہاں اگر تو اچھی کہانیاں کوئی آرہی ہوں تو ٹھیک، نہیں تو بعض دفعہ صرف وقت ضائع ہو رہا ہوتا ہے۔اور چھوٹے بچوں کو تو ویسے بھی ان پر نہیں بٹھانا چاہئے کیونکہ ایک تو نظر پہ اثر پڑتا ہے اگر لمبا عرصہ بیٹھے رہیں۔دوسرے دو سال سے کم بچے کو تو ویسے بھی ڈاکٹر کہتے ہیں کہ اس کی سوچ میں فرق پڑ جاتا ہے اور پھر وہ ایک طرف لگ جاتا ہے۔بعض دفعہ برے اثرات پید اہوتے ہیں۔بہر حال حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہمیں کہانیاں سنایا کرتے تھے ، کہانیاں سنانے کا جو فائدہ اس وقت ہوتا ہے وہ بھی ان سے حاصل ہو تا تھا۔اگر اس وقت آپ وہ کہانیاں نہ سناتے تو پھر ہم شور مچاتے اور آپ کام نہ کر سکتے تھے۔پس یہ ضروری ہوتا ہے کہ ہمیں کہانیاں سنا کر چپ کرایا جاتا اور یہی وجہ تھی کہ رات کے وقت ہماری دلچسپی کو قائم رکھنے کے لئے آپ جب بھی فارغ ہوں کہانیاں سنایا کرتے تھے تا ہم سو جائیں اور آپ کام کر سکیں۔بچے کو کیا پتا ہوتا ہے کہ اس کے ماں باپ کتنا بڑا کام کر رہے ہیں۔اسے تو اگر دلچسپی کا سامان مہیانہ کیا جائے تو وہ شور کرتا ہے اور کہانی سنانے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ بچے سو جاتے ہیں۔اس زمانے میں تو یہ چیزیں نہیں تھیں۔ماں باپ محنت بھی کرتے تھے۔اب جیسا کہ میں نے کہا بعض چیزیں ایسی آگئی ہیں جس کی وجہ سے ماں باپ ایک تو تربیت پہ محنت نہیں کرتے، دوسرے ان کے تعلق بچوں کے ساتھ کم ہو گئے ہیں۔اس طرف توجہ دینی چاہئے۔آپ فرماتے ہیں کہ کہانیوں کی یہ ضرورت ایسی ہے جسے سب نے تسلیم کیا ہے۔گو وہ عارضی ضرورت ہوتی ہے۔اس وقت اس کا فائدہ صرف اتنا ہوتا ہے کہ بچے کو ایسی دلچپسی پید اہو جاتی ہے کہ وہ محو ہو کر سو جاتا ہے۔ماں باپ کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ہمارا وقت ضائع نہ ہو۔اس لئے وہ اسے لٹا کر کہانیاں سناتے ہیں یا ان میں سے ایک اسے سناتا ہے اور دوسرا کام میں لگارہتا ہے یا پھر ایک سناتا ہے اور باقی خاندان آرام سے کام کرتا ہے۔اگر اس وقت