خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 66 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 66

خطبات مسرور جلد 14 66 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 29 جنوری 2016 بہر حال وہ آخر وقت تک مسلمان رہا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اس کے مخلصانہ تعلقات قائم رہے۔تو سب سے پہلا مسلمان امریکہ میں وہی ہو ا تھا۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ اب بھی میں دیکھتا ہوں کہ جماعت کی ترقی یورپین ملکوں کی نسبت امریکہ میں سب سے زیادہ ہو رہی ہے۔بعض یورپین ممالک میں بھی احمدیت پھیل رہی ہے اور وہ بھی مغربی علاقے میں ہی ہیں مگر امریکہ میں ترقی کے زیادہ آثار پائے جاتے ہیں۔(ماخوذ از الفضل 21 اگست 1957 ء صفحہ 3) اللہ تعالیٰ کرے کہ امریکہ کی جماعت ایسے نیک فطرت لوگوں کی تلاش کرے اور انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے لانے کی کوشش کرے اور اس کے لئے ٹھوس اور مربوط کوشش ہو۔اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جس امید کا اظہار کیا ہے وہ حقیقت بن جائے۔ویسے بھی ایک زمانے میں امریکہ میں بہت احمدی ہوئے تھے اور بڑی مضبوطی سے احمدیت پر قائم رہے لیکن ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جن کی آگے جو نسلیں ہیں وہ دنیا داری کی وجہ سے یار ابطوں میں کمی کی وجہ سے یا اور وجوہات تھیں، احمدیت پر قائم نہیں رہ سکیں۔اس کے لئے بھی جماعت امریکہ کو کوشش کرنی چاہیئے۔حضرت مسیح موعود کا بچوں سے تعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام بچوں کے ساتھ کس طرح تعلق رکھتے تھے اور کس طرح ان کی تربیت کا بھی خیال رکھتے تھے، اس کے بارے میں حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ صحیح تربیت کا طریق وہی ہے جو اسے کھیل کو د سکھائے۔یعنی کھیلتے کودتے ہی تربیت ہو جائے۔پہلے تو جب وہ بہت چھوٹا بچہ ہو کہانیوں کے ذریعہ اس کی تربیت ضروری ہوتی ہے۔بڑے آدمی کے لئے خالی وعظ کافی ہوتا ہے لیکن بچپن میں دلچسپی قائم رکھنے کے لئے کہانیاں ضروری ہوتی ہیں۔یہ ضروری نہیں کہ وہ کہانیاں جھوٹی ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمیں کہانیاں سنایا کرتے تھے۔کبھی حضرت یوسف کا قصہ بیان فرماتے۔کبھی حضرت نوح کا قصہ سناتے اور کبھی حضرت موسیٰ کا واقعہ بیان فرماتے۔مگر ہمارے لئے وہ کہانیاں ہی ہوتی تھیں۔گو وہ تھے بچے واقعات۔ایک حاسد و محسود کا قصہ الف لیلہ میں ہے وہ بھی سنایا کرتے تھے۔وہ سچا ہے یا جھوٹا بہر حال اس میں ایک مفید سبق ہے۔اسی طرح ہم نے کئی ضرب الامثال جو کہانیوں سے تعلق رکھتی ہیں آپ سے سنی ہیں۔پس بچپن میں تعلیم کا بہترین ذریعہ کہانیاں ہیں۔گو بعض کہانیاں بے معنی اور بیہودہ ہوتی ہیں مگر مفید اخلاق سکھانے والی اور سبق آموز کہانیاں بھی ہیں۔اور جب بچے کی عمر بہت چھوٹی ہو تو اس طریق پر اسے تعلیم دی جاتی ہے۔پھر جب وہ ذرا ترقی کرے تو اس کے لئے تعلیم و تربیت کی بہترین چیزیں کھیلیں ہیں۔بعض والدین آجاتے ہیں کہ یہ کھیلتا بہت ہے۔اگر ٹی وی گیموں پر نہیں کھیل رہا اور باہر جاکر کھیلتا ہے تو بچے کو کھیلنے دینا چاہئے۔کتابوں کے ساتھ جن چیزوں کا علم دیا جاتا ہے کھیلوں سے عملی طور پر وہی تعلیم دی جاتی ہے۔