خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 65 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 65

خطبات مسرور جلد 14 65 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 جنوری 2016 زمانے میں جب یہ لوگ جاتے تھے۔اس بات کو دیکھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ آپ کچھ دن اور ٹھہر جائیں۔وہ ٹھہر گیا اور بعض لوگوں کو آپ نے مقرر کیا کہ اسے تبلیغ کریں۔کئی دن اس سے گفتگو ہوتی رہی مگر اسے کوئی اثر نہ ہوا۔آخر تبلیغ والے دوستوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عرض کیا۔یہ بڑا جو شیلا ہے۔یہ سوالی لوگوں کی طرح نہیں ہے۔اسے صداقت کی طلب معلوم ہوتی ہے۔جس طرح آجکل اکثر عرب جو احمدی ہو رہے ہیں ان میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ طلب ہے اس لئے اس کے لئے دعا کی جائے۔تبلیغ سے تو ان کو سمجھ نہیں آرہی۔آپ نے دعا کی اور آپ کو بتایا گیا کہ اسے ہدایت نصیب ہو جائے گی۔خدا کی قدرت اسی رات اسے کسی بات سے ایسا اثر ہوا کہ صبح اس نے بیعت کر لی اور پھر چلا گیا۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ حج کے موقع پر مجھے بتایا گیا کہ کئی قافلوں کو اس نے تبلیغ کی۔ایک قافلے والے اسے مار مار کر بیہوش کر دیتے تھے تو وہ ہوش آنے پر اٹھ کر دوسرے قافلے کے پاس چلا جاتا اور تبلیغ کرتا۔تو بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جب سینے کھولے تو کھلتے ہیں اور پھر ایسا مثالی جوش پیدا ہوتا ہے کہ پھر کسی چیز کی پرواہ نہیں ہوتی۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 11 صفحہ 457) اسی طرح آپ ایک اور واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں امریکہ میں سب سے پہلے ایک انگریز نے یا امریکن نے اسلام قبول کیا۔الیگزینڈر رسل ویب اس کا نام تھا اور امریکن ایمبیسی میں فلپائن میں کام کرتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے انگریزی اشتہارات کی جب یورپ اور امریکہ میں اشاعت ہوئی تو اس کے دل میں اسلام قبول کرنے کی تحریک پید اہوئی اور اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے خط و کتابت کرنی شروع کر دی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ مسلمان ہو گیا اور اسلام کی اشاعت کے لئے اس نے اپنی زندگی وقف کر دی۔بعد میں وہ ہندوستان میں بھی آیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اس نے ملنے کی خواہش کی۔مگر مولویوں نے اسے کہا۔وہ لاہور وغیرہ یا کسی بڑے شہر میں جہاں آیا تھا۔وہاں کے مولویوں سے جب ملا تو انہوں نے اسے کہا کہ اگر مرزا صاحب سے ملے تو مسلمان تمہیں چندہ نہیں دیں گے۔تبلیغ کرنا چاہتے ہو۔اپناplan پھیلانا چاہتے ہو۔تبلیغ کی جو منصوبہ بندی تم نے کی ہے اس کے لئے پھر مسلمانوں سے تمہیں کچھ نہیں ملے گا۔چنانچہ وہ ان کے بہکانے کے نتیجہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے نہ ملا مگر آخر بہت مایوسی سے وہ یہاں سے واپس گیا۔ان مسلمانوں نے بھی کوئی مدد نہ کی۔اسے تو کہا گیا تھا کہ دوسرے مسلمان تمہاری مدد کریں گے اور تمہیں اشاعت اسلام کے لئے بڑا چندہ دیں گے۔مگر دوسرے مسلمانوں نے اس کی کوئی مدد نہ کی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے قریب اس نے آپ کو خط لکھا کہ میں نے آپ کی نصیحت کو نہ مان کر بہت دکھ اٹھایا ہے۔آپ نے مجھے بروقت بتایا تھا کہ مسلمانوں کے اندر خدمت دین کا کوئی شوق نہیں پایا جاتامگر میں نے اسے نہ مانا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ میں آپ کی ملاقات سے محروم ہو گیا۔