خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page ix
خطبات مسرور جلد 14 خطبہ نمبر خلاصه / عنوان VII involve ہونے کی کوشش کریں۔بعض دفعہ چاہنے کے باوجود بعض کام نہیں ہوتے۔اس لئے کہ وہ چاہنا جو ہے وہ بے دلی سے ہو تا ہے۔پانچ نمازیں ہر بالغ عاقل مسلمان پر فرض ہیں اور مر دوں پر یہ مسجدوں میں باجماعت فرض ہیں اور اس کے لئے انتظام ہونا چاہئے۔چالیس ہفتوں تک خاص طور پر روزے رکھیں ، دعائیں کریں، نفل ادا کریں اور صدقات دیں۔اللہ تعالیٰ خاص طور پر ان احمدیوں کو ، جہاں یہ ظلم ہو رہے ہیں، جن جن ملکوں میں ہو رہے ہیں یا جن جگہوں پر ہو رہے ہیں، ایسی دعاؤں کی توفیق دے جو اللہ تعالی کے عرش کو ہلانے والی ہوں۔خلاصه خطبات تاریخ مقام 20 فروری کا دن جماعت احمدیہ میں پیشگوئی مصلح موعود کے حوالے سے جانا جاتا 19 فروری بیت الفتوح لندن ہے۔اس پیشگوئی کے مصداق جیسا کہ وقت نے ثابت کیا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ المسیح الثانی تھے۔حضرت مصلح موعودؓ کے خطبات کے حوالہ سے پیشگوئی کے پورا ہونے سے متعلق مختلف پہلوؤں کے بارہ میں ایمان افروز تذکرہ۔مکرم صوفی نذیر احمد صاحب ابن مکرم میاں محمد عبد اللہ صاحب مرحوم کا ذکر خیر و قرآن کریم میں خدا تعالیٰ نے مومنوں کو ایسی باتوں سے روکا ہے جو لغو ہیں۔26 فروری بیت الفتوح لندن ایک مومن کو حقیقی طور پر احسان کرنے والے کا شکر گزار ہونا چاہئے۔ہر ایک مبلغ کو چاہئے کہ وہ جغرافیہ، تاریخ، حساب، طب، آداب گفتگو، آداب مجلس وغیرہ علوم کی اتنی واقفیت ضرور رکھتا ہو جتنی مجلس شرفاء میں شامل ہونے کے لئے ضروری ہے۔وہ لوگ جو نمازوں کے حق ادا نہیں کرتے انہیں اپنے جائزے لینے چاہئیں۔وہ لوگ جو دین کو دنیا پر مقدم کرنے کے عہد کو پورا نہیں کرتے انہیں اپنے جائزے لینے چاہئیں۔وہ لوگ جو یہاں آئے تو احمدیت کی وجہ سے ہیں لیکن یہاں آکر بھول گئے ہیں کہ احمدیت کی وجہ سے ہی انہیں یہاں رہنے کا حق ملا ہے، ان کو زیادہ سے زیادہ جماعت کی خدمت کے لئے آگے آنا چاہئے لیکن وہ اسے بھول جاتے ہیں اور بعض دفعہ اعتراض شروع کر دیتے ہیں۔ایسے لوگ نہ اچھے عابد ہیں نہ وفادار ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود کے بیان فرمودہ مختلف سبق آموز واقعات کا حضرت مصلح موعود کی روایات کے حوالہ سے تذکرہ اور افراد جماعت کو اہم نصائح 10 حضرت مصلح موعودؓ کے حوالہ سے حضرت مسیح موعود کے بیان فرمودہ بعض 04مارچ سبق آموز واقعات کا تذکرہ۔اگر دوستوں کے ذریعہ آپس میں ، ثالثی فیصلے ہو سکتے ہوں تو عدالتوں میں بھی نہیں جانا چاہئے۔ہر انسان کا فرض ہے کہ وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرے۔قرآن کریم پر غور اور تدبر کرنا بیت الفتوح لندن