خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page x
خطبات مسرور جلد 14 خطہ نمبر خلاصه / عنوان VIII چاہئے۔حضرت مسیح موعود کی تفاسیر ، حضرت مصلح موعود اور خلفاء کی بعض آیتوں پر وضاحتیں ہیں، تفسیر ہے ان کو دیکھنا چاہئے۔خود غور کرنا چاہئے اور قرآن کریم سے ہی علم و معرفت کے نکتے تلاش کرنے کی ہمیں کوشش کرنی چاہئے۔ایک احمدی ہو کر ایمان کی ایسی صورت میں حفاظت ہو سکتی ہے جب نظام جماعت اور خلافت سے مضبوط تعلق ہو اور با قاعدہ تعلق ہو اور اس تعلق کے لئے ان ذرائع کو استعمال کرنے کی ضرورت ہے جن سے دور بیٹھ کر بھی وہ تعلق قائم رہے۔ایم ٹی اے اور اسی طرح alislam کی ویب سائٹ یہ بڑا اچھا ذریعہ ہیں جو حضرت مسیح موعود کی تبلیغ کو بھی پہنچانے کا ذریعہ ہیں اور ہر احمدی کی تربیت اور خلافت سے جوڑنے اور جماعت سے جوڑنے کا بھی ذریعہ ہیں۔پس ہر احمدی کا فرض ہے کہ اس کے ساتھ جڑنے کی کوشش کریں۔اپنے دوستوں کو بھی ان کا تعارف کروانا چاہئے۔تعلقات بنانے کے لئے بھی ایسے لوگوں کو چننا چاہئے جن کی دینی حالت اچھی ہو ، جو نمازوں کی باقاعدہ ادا ئیگی کرنے والے ہوں اور پابند ہوں۔اس حوالے سے خاص طور پر میں ربوہ اور قادیان کے احمدیوں کو توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ربوہ کے شہریوں کو اس طرف خاص توجہ دینی چاہئے۔جو کمزور ہیں وہ کمزوروں کا اثر لینے کی بجائے ان لوگوں کا اثر لیں جن کا جماعت سے مضبوط تعلق بھی ہے اور جو نماز میں بھی با قاعدہ ہیں۔مکرم قمر الضیاء صاحب کوٹ عبد المالک ضلع شیخو پورہ کی شہادت خلاصه خطبات تاریخ مقام 11 شیطان جھوٹ، ظلم، جذبات، خون، طولِ امل ریاء اور تکبر کی طرف بلاتا 11 مارچ بیت الفتوح لندن ہے۔انسان تو بہ کرے، اللہ تعالیٰ سے مغفرت چاہے تو بخشا جاتا ہے۔تکبر کو بعض دفعہ انسان محسوس نہیں کرتا اس لئے بڑی باریکی سے اس بارے میں ہمیں اپنے جائزے لینے چاہئیں۔بعض دفعہ شیطان نیکیوں کے خیالات ڈال کر بھی اپنے پیچھے چلاتا ہے۔ہر ایک شخص میں کسی نہ کسی شر کامادہ ہوتا ہے وہ اس کا شیطان ہوتا ہے جب تک کہ اس کو قتل نہ کرے کام نہیں بن سکتا۔حضرت اقدس مسیح موعود کے ارشادات کے حوالہ سے شیطان اور اس کے حملوں اور وساوس سے بچنے کی راہوں کی طرف رہنمائی 12 بچوں کی تربیت میں باپوں کا خاص کردار۔حضرت مسیح موعود اور آپ کے خلفاء 18 مارچ بیت الفتوح - لندن کرام کی تصاویر کے استعمال سے متعلق ضروری احتیاطوں کے اختیار کرنے کی تاکید۔علم کے معاملہ میں بخل نہیں کرنا چاہئے۔اس کو پھیلانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ڈاکٹر بیماروں کو تبلیغ کیا کریں۔اس طرح سے وہ دین کی خدمت بھی کر سکتے ہیں۔امام کی آواز کے مقابلے میں افراد کی آواز کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔تمہارا فرض ہے کہ جب بھی تمہارے کانوں میں خدا تعالیٰ کے رسول کی