خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 64
خطبات مسرور جلد 14 64 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 جنوری 2016 عالم بھی آتے تھے تو یہ عالم آپ کی بیعت کا شرف بھی حاصل کرتے تھے۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ ایک عالم دین جو صرف و نحو کے متبحر عالم تھے اور سارے ہندوستان میں ان کی علمیت کا شہرہ تھا بہت سادہ طبع تھے۔اور اگر انہیں کوئی ایسا شخص دیکھتا جو ان کو پہلے سے نہ جانتا تو وہ یہی سمجھتا کہ یہ گھاس کاٹ کر آرہے ہیں، کوئی عام مزدور آدمی ہیں۔ان کا نام مولوی خان ملک صاحب تھا۔وہ کہیں سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعویٰ کے متعلق خبر سن کر قادیان آئے اور آپ کی باتیں سن کر ایمان لے آئے۔واپسی پر جب وہ لاہور پہنچے تو انہوں نے ارادہ کیا کہ مولوی غلام احمد صاحب سے ملتے چلیں۔مولوی غلام احمد صاحب شاہی مسجد میں درس دیتے تھے اور وہ مولوی خان ملک صاحب کے شاگر درہ چکے تھے۔مولوی غلام احمد صاحب بھی بہت مشہور عالم تھے اور چونکہ لاہور کے لوگ اچھے متمول تھے اس لئے مولوی غلام احمد صاحب کی مالی حالت بہت اچھی تھی اور سینکڑوں طالبعلم ان کے پاس پڑھتے تھے۔جب مولوی خان ملک صاحب شاہی مسجد میں پہنچے تو وہاں کے طلباء کو تو اس بات کا علم نہ تھا کہ یہ کس پائے کے آدمی ہیں۔انہوں نے ان کے معمولی لباس اور ظاہری صورت سے یہ اندازہ لگایا کہ یہ کوئی معمولی آدمی ہیں۔مولوی غلام احمد صاحب نے مولوی خان ملک صاحب سے پوچھا کہ فرمائیے کہاں سے تشریف لا رہے ہیں۔انہوں نے کہا قادیان سے۔انہوں نے حیران ہو کے پوچھا قادیان سے ؟ انہوں نے کہا ہاں قادیان سے۔انہوں نے کہا کیوں ؟ تو کہنے لگے کہ مرزا صاحب کا مرید ہونے کے لئے گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ آپ اتنے بڑے عالم ہیں۔آپ نے ان میں کیا خوبی دیکھی کہ ان کے مرید ہونے کے لئے چلے گئے۔مولوی خان ملک صاحب نے پنجابی میں انہیں کہا کہ تو اپنا کم کر ئینوں تے قَالَ يَقُولُ وِی چنگی طرح نہیں آوند ا۔یعنی تم اپنا کام کرو۔تجھے تو ا بھی قَالَ يَقُولُ بھی اچھی طرح نہیں آتا۔کیونکہ مولوی غلام احمد صاحب بھی بڑے مشہور عالم تھے اس لئے جب مولوی خان ملک صاحب نے یہ الفاظ کہے تو مولوی غلام احمد صاحب کے شاگردوں کو سخت غصہ آیا اور انہوں نے مولوی خان محمد صاحب سے مخاطب ہو کر کہا کہ بڑھے تو نے یہ کیا بات کہی ہے۔مولوی غلام احمد صاحب نے ان کو منع کیا اور کہا خاموش رہو۔جو کچھ یہ کہہ رہے ہیں بالکل ٹھیک ہے۔(ماخوذ از تفسیر کبیر جلد ہفتم صفحہ 288-289) تو ایسے سعید فطرت لوگ بھی تھے جو جاتے تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت میں شامل ہوتے تھے۔ان کو کوئی ضد، علم پہ زعم نہیں تھا۔اسی طرح حضرت مصلح موعودؓ ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں ایک عرب آیا۔یہ لوگ چونکہ عام طور پر سوالی ہوتے ہیں وہ جب کچھ دنوں کے بعد یہاں سے جانے لگا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کرائے کے طور پر اسے کچھ دیا مگر اس نے لینے سے انکار کر دیا۔اور کہا میں نے سنا تھا کہ آپ نے مامور ہونے کا دعویٰ کیا ہے اس لئے آیا تھا۔کچھ لینے کے لئے نہ آیا تھا۔چونکہ یہ ایک نئی بات تھی کیونکہ اس علاقے کا شاید اب تک کوئی بھی ایسا شخص نہیں آیا جو سوالی نہ ہو۔اُس