خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 63
خطبات مسرور جلد 14 63 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 29 جنوری 2016 احساس ہو تا ہے اور اس وجہ سے یہ فرق بھی ظاہر ہو جاتا ہے۔بہر حال حضرت مصلح موعود احساس کے اس فرق کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حوالے سے ایک دنیاوی مثال بھی دیتے ہیں۔آپؐ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے تھے کہ کسی شہر میں چند شہری آپس میں ذکر کر رہے تھے کہ تیل بہت گرم ہوتے ہیں۔ایک پاؤتل کوئی نہیں کھا سکتا۔اگر کھائے تو فوراً بیمار ہو جائے۔اکثریت کی یہی حالت ہو گی۔یہ ہو نہیں سکتا کہ کوئی پاؤ بھر تیل کھائے اور بیمار نہ ہو جائے۔اس گفتگو کے دوران ایک نے کہا کہ اگر کوئی اتنے تل کھائے تو میں اسے پانچ روپے انعام دوں۔کوئی زمیندار وہاں سے گزر رہا تھا۔ان لوگوں کو کچھی چیز میں کھانے کی بھی اور زیادہ کھانے کی بھی عادت ہوتی ہے۔کیونکہ اس کے بعد کام بھی کر لیتے ہیں یا بعض طبیعتیں ایسی ہوتی ہیں تو وہ زمیندار بھی کوئی آگھر قسم کازمیندار تھا۔وہ نہایت تعجب سے اور حیرت سے ان کی یہ باتیں سنتا رہا اور خیال کر رہا تھا کہ عجیب بات ہے کہ ایسے مزے کی چیز کھانے پر پانچ روپے انعام بھی ملتے ہیں کہ تل کھانے ہیں اور پانچ روپے انعام ملیں گے۔اس نے آگے بڑھ کے پوچھا کہ ٹہنیوں سمیت کھانے ہیں یا بغیر ٹہنیوں کے۔یہ اس لئے پوچھا کہ اس کی سمجھ میں یہ بات نہیں آرہی تھی کہ بغیر ٹہنیوں کے پاؤ بھر تل کھانے سے پانچ روپے انعام کس طرح ہو سکتا ہے۔گویاوہ ٹہنیوں سمیت بھی کھانے کے لئے تیار تھا حالانکہ باتیں کرنے والے اتنے تل کھانا نا ممکن خیال کر رہے تھے۔اب ان دونوں کے احساس میں کتنا بڑا فرق ہے۔ایک تو وہ ہیں کہ پاؤ بھر تیل کھانے ناممکن خیال کرتے ہیں اور ایک وہ ہے کہ جو بمع ٹہنیاں کھانے کے لئے تیار ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ بغیر ٹہنیوں کے تو یہ معمولی مزے کی بات ہے۔اس پر کب پانچ روپے انعام مل سکتا ہے۔پس دنیا میں جس قدر فرق ہیں یہ احساسات کے فرق ہیں۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 9 صفحہ 82 تا86) حقیقی نماز اور عبادت اور یہی قانون روحانی دنیا میں بھی چلتا ہے۔کسی پر نماز کا زیادہ اثر ہوتا ہے، کسی پر کم اثر ہوتا ہے۔بعض ایسے ہیں جو صرف نمازیں پڑھتے ہیں یا ظاہر انمازیں پڑھ رہے ہوتے ہیں۔ٹکریں ماریں اور چلے گئے۔نماز کا کوئی اثر ہی نہیں ہو رہا ہو تا۔روحانی حسوں کے ثبوت کے لئے انہی کی شہادت قبول ہو گی جن میں یہ حس زیادہ ہو۔جن کو اثر زیادہ ہو تا ہو ، جو عبادت کرتے ہوں اور عبادت کا اثر بھی ان پر ظاہر ہو تا ہو۔پس جماعت میں ایسے افراد کی اکثریت ہونی چاہئے کہ جن کی حسیں ایسی ہوں جو روحانی اثرات کو زیادہ سے زیادہ قبول کرنے والی ہوں اور پھر دنیا کو بتانے والی ہوں کہ حقیقی نماز کیا چیز ہے۔حقیقی عبادت کیا چیز ہے۔اور اس کے لئے کس قسم کی حس پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک واقعہ بیان کرتے ہیں جو کہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرمایا کرتے تھے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تو اسے ایک اور حوالے سے بیان فرمایا ہے لیکن اس واقعہ سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس جب نیک فطرت بڑے بڑے متبحر