خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 62
خطبات مسرور جلد 14 62 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 جنوری 2016 تھے کہ جس طرح ہم سالوں بعد مل رہے ہیں۔غرض کہتے ہیں کہ یہ واقعہ بیان ہوا جو حضرت مسیح موعود کی مجلس میں سنایا گیا۔اس دوست نے بتایا کہ منشی اروڑے خان صاحب تو ایسے آدمی ہیں کہ جو مجسٹریٹ کو بھی ڈرا دیتے ہیں۔پھر اس نے سنایا کہ ایک دفعہ انہوں نے مجسٹریٹ سے کہا کہ میں قادیان جانا چاہتا ہوں مجھے چھٹی دے دیں۔اس نے انکار کر دیا۔اس وقت حضرت منشی صاحب سیشن جج کے دفتر میں لگے ہوئے تھے۔انہوں نے کہا قادیان میں نے ضرور جانا ہے مجھے آپ چھٹی دے دیں۔وہ کہنے لگا کام بہت ہے اس وقت آپ کو چھٹی نہیں دی جاسکتی۔منشی صاحب کہنے لگے بہت اچھا۔آپ کا کام ہو تا رہے۔ٹھیک ہے۔آپ یہ کہتے ہیں کام بہت ہے۔کریں، کروالیں مجھے چھٹی نہ دیں لیکن میں آج سے بد دعا میں لگ جاتا ہوں۔کام جو آپ کہنا چاہتے ہیں وہ کام کبھی نہ سنورے۔آپ اگر نہیں جانے دیتے تو نہ جانے دیں۔آخر مجسٹریٹ کو کوئی ایسا نقصان پہنچا کہ وہ سخت ڈر گیا اور اس کے بعد اس مجسٹریٹ پہ یہ اثر ہوا کہ جب بھی ہفتے کا دن آتا تھا وہ عدالت والوں سے کہتا کہ آج کام ذرا جلدی بند کر دینا کیونکہ منشی اروڑے خان صاحب کی گاڑی کا وقت نکل جائے گا۔یعنی ٹرین پر انہوں نے قادیان جانا ہے۔اس لئے جلدی بند کرو کہ وقت نہ نکل جائے۔اس طرح وہ مجسٹریٹ جب بھی منشی صاحب کا قادیان آنے کا ارادہ ہو تا آپ ہی انہیں چھٹی دے دیتا۔تو وہ ان کی دعا سے ایسا ڈرا۔تو یہ لوگ تھے جنہوں نے اپنی بزرگی اور دعاؤں کا اثر غیروں پر بھی ڈالا ہوا تھا اور یہی چیز ہے جسے آج بھی ہمیں اپنے سامنے رکھنا چاہئے اور اللہ تعالیٰ سے تعلق میں بڑھنا چاہئے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 22 صفحہ 429-430) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حوالے سے بعض کور باتیں بیان کرتا ہوں جو حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالی ' عنہ نے بیان فرمائی ہیں اور ہماری روحانیت میں ترقی اور تربیت کے لئے بہت ضروری ہیں۔دنیا میں مختلف طبیعتوں اور احساسات کے حامل انسان ہوتے ہیں۔بعض کی حسیں تیز ہوتی ہیں، بعض کی کم۔بعض خاص حالات کی وجہ سے کسی موسم کے یا حالات کے عادی ہو جاتے ہیں اور بعض کے لئے وہ حالات سخت ہوتے ہیں گویا وہ عادت نہ ہونے کی وجہ سے حسّاس ہوتے ہیں یا ان کی طبیعت زیادہ حساس ہوتی ہے۔پس سردی گرمی، خوشبو اور بد بو کا احساس حسوں کے کم یا زیادہ ہونے سے ہوتا ہے۔اور یہ انسان کی حسیں ہیں جو اس فرق کو ظاہر کرتی ہیں اور انسانوں کی اکثریت اس لحاظ سے حساس ہوتی ہے جن کو سردی گرمی کا بھی احساس ہوتا ہے، خوشبو بد بو کا بھی احساس ہوتا ہے اور بعض احساسات ہوتے ہیں۔اور جن کو احساس نہیں ہو تاوہ یہ نہیں ثابت کر سکتے کہ ان چیزوں کے اثرات نہیں ہیں یا یہ کوئی چیز ہی نہیں ہے۔بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ سردیوں میں بھی جب لوگوں کے پاؤں ٹھٹھر رہے ہوتے ہیں، موٹی جرابیں پہنی ہوتی ہیں تو برف میں رہنے والا یا بعض لوگ جن کو سردی کم لگتی ہے وہ بغیر جراب کے ہوتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے پاؤں بڑے گرم ہیں۔اسی طرح بعض اور احساسات ہیں۔لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ سردی نہیں ہے یا سردی اثر نہیں کرتی کیونکہ اکثریت حسّاس ہوتی ہے۔پس ان چیزوں کے اثرات ہوتے ہیں اور اکثریت کو یہ