خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 61 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 61

خطبات مسرور جلد 14 61 5 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 جنوری 2016 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 29/ جنوری 2016ء بمطابق 29 صلح 1395 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن۔لندن تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : اللہ تعالیٰ مخفی ہے مگر وہ اپنی قدرتوں سے پہچانا جاتا ہے۔دعا کے ذریعہ سے اس کی ہستی کا پتہ لگتا ہے۔" فرمایا " کوئی بادشاہ یا شہنشاہ کہلائے۔ہر شخص پر ضرور ایسے مشکلات پڑتے ہیں جن میں انسان بالکل عاجز رہ جاتا ہے اور نہیں جانتا کہ اب کیا کرنا چاہئے۔اس وقت دعا کے ذریعہ سے مشکلات حل ہو سکتے ہیں۔" دعاؤں کی اہمیت (ملفوظات جلد 08 صفحہ 35) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مختلف طریقوں سے، مختلف زاویوں سے بیشمار جگہ اس کی اہمیت بیان فرمائی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ نے اس کا ایسا ادراک حاصل کیا اور آپ علیہ السلام کی صحبت کی وجہ سے ان کا دعاؤں پر ایسا یقین تھا اور ایسا ایمان تھا کہ غیروں پر بھی ان کی دھاک تھی اور غیر مذہب والے بھی جو احمدیوں سے تعلق رکھنے والے تھے ، سمجھتے تھے کہ ان کی دعائیں بڑی قبول ہوتی ہیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں ایک واقعہ سنایا گیا جس پر آپ بہت ہنسے۔حضرت منشی اروڑے خان صاحب کا واقعہ ہے۔حضرت منشی صاحب شروع میں قادیان بہت زیادہ آیا کرتے تھے۔بعد میں کیونکہ بعض اہم کام آپ کے سپر د ہو گئے اس لئے جلدی چھٹی ملنا ان کے لئے مشکل ہو گیا تھا مگر پھر بھی وہ قادیان اکثر آتے رہتے تھے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ہمیں یاد ہے کہ جب ہم چھوٹے بچے ہوا کرتے تھے تو ان کا آنا ایسا ہی ہوا کرتا تھا جیسے مدتوں کا بچھڑا ہوا بھائی سال کے بعد اپنے کسی عزیز سے آکر ملے۔باوجود اس کے کہ جلدی جلدی آتے تھے پھر بھی اس محبت اور خلوص سے ملا کرتے