خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 60
خطبات مسرور جلد 14 60 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 جنوری 2016 نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔تفصیل کے مطابق یہ ہے کہ تقریباً نو بجے رات اپنی دوکان واقع بلال مارکیٹ نزد پھاٹک سے گھر واپس جا رہے تھے کہ درہ کے قریب نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے ان پر فائرنگ کی اور فرار ہو گئے۔فائرنگ کے نتیجہ میں بلال صاحب کو پانچ گولیاں لگیں جن میں سے دو گولیاں سر میں لگیں۔ان کو فضل عمر ہسپتال پہنچایا گیا۔وہاں سے ابتدائی طبی امداد کے بعد الائیڈ ہسپتال فیصل آباد بھیج دیا گیا جہاں پر ڈاکٹر ابھی طبیعت سنبھلنے کا انتظار کر رہے تھے اور گولیاں نکالنے کے لئے آپریشن نہیں کیا تھا کہ اس دوران ان کی وفات ہو گئی۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔1989ء میں یہ گوٹھ بلال نگر نزد نوکوٹ ضلع میر پور خاص میں پیدا ہوئے تھے۔وقف نو کی بابرکت تحریک میں شامل تھے۔میٹرک تک ہی تعلیم حاصل کی تھی۔2003ء میں والد کی وفات ہو گئی، پھر یہ خاندان ربوہ شفٹ ہو گیا۔2008ء میں تجدید وقف کر کے دفتر وصیت صدر انجمن احمدیہ کے نئے کارکن کے طور پر تعینات ہوئے۔وہیں وفات تک خدمت سر انجام دیتے رہے۔شام کے وقت تھوڑی دیر کے لئے اپنی چھوٹی سی دوکان تھی اس میں بھی جاتے تھے۔اپنے حلقہ میں ان کو مختلف حیثیتوں سے جماعتی کام کرنے کی توفیق ملی اور آجکل اپنے محلے کے سیکرٹری وصایا بھی تھے۔مرحوم کی شادی 2015ء کے اپریل میں ہوئی تھی اور اب ان کی اہلیہ بھی امید سے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان پر بھی فضل فرمائے اور آنے والی اولاد پر بھی فضل فرمائے۔انتہائی شریف النفس، ہمدرد اور ملنسار شخصیت کے مالک تھے۔اپنے کام میں سنجیدہ، محنتی، اطاعت گزار تھے۔خلافت سے گہرا تعلق تھا۔ہر ایک سے احترام اور ادب سے، محبت سے پیش آنے والے تھے۔عزیز رشتے داروں کے ساتھ بھی اور والدہ اور بہنوں کے ساتھ بہت محبت کا تعلق رکھتے تھے۔پسماندگان میں اہلیہ مبشرہ بلال صاحبہ اور والدہ مبارکہ ممتاز صاحبہ کے علاوہ ایک بھائی اور دو ہمشیر گان سوگوار چھوڑے ہیں۔ان کے پہلے سیکرٹری مجلس کار پرداز اور موجودہ بھی ان دونوں نے اسی بات کو لکھا ہے کہ بڑے ہو نہار اور نہایت محنت سے کام کرنے والے تھے اور کبھی یہ نہیں ہوا کہ کسی موقع پر کوئی سستی یا کوتاہی دکھائی ہو اور ہمیشہ مسکراتے بھی رہتے تھے۔دفتر وقت پہ آتے۔جو کام کہو بھاگ کر کرنے والے تھے۔ایسے کار کن کم ہی ملتے ہیں جو ہر وقت مسکراتے رہیں۔اپنے کام سے کام رکھتے تھے۔اطاعت اور فرمانبر داری میں نہایت اعلیٰ درجہ کے تھے۔جماعتی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے تھے اور نصیر صاحب جو موجودہ سیکر ٹری کار پر داز ہیں لکھتے ہیں کہ خلافت سے شہید کا ایسا تعلق تھا کہ اسے دیکھ کے ہمیں رشک آتا تھا۔اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور ان کے پسماندگان کو صبر اور حوصلہ عطا فرمائے۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 12 فروری 2016ء تا 18 / فروری 2016ء جلد 23 شمارہ 07 صفحه 05 تا08)