خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 59 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 59

خطبات مسرور جلد 14 59 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 جنوری 2016 عہدیداروں کا ہی قصور نہیں بلکہ افراد کے بھی قصور ہوتے ہیں۔اگر ہر شخص اپنے روز مرہ کے معاملات میں اور آپس کے تعلقات میں اپنا جائزہ لے کہ وہ دوسروں کے متعلق کس طرح سوچتا ہے اور اپنے متعلق کیا سوچتا ہے تو اس سے معاشرے میں ایک خوبصورتی پیدا ہوتی ہے۔پس اصل چیز یہی ہے کہ ہر وقت یہ خیال رہے کہ ہر فعل اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ہو۔جب یہ ہو گا تبھی اصلاح ہو گی۔ایک موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ: "بدی کی جزا اسی قدر بدی ہے لیکن اگر کوئی عفو کرے مگر وہ عفو بے محل نہ ہو بلکہ اس عفو سے اصلاح مقصود ہو تو اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے۔مثلاً اگر چور کو چھوڑ دیا جاوے تو وہ دلیر ہو کر ڈاکہ زنی کرے گا اس کو سزا ہی تو ہوا دینی چاہئے۔لیکن اگر دو نو کر ہوں اور ایک ان میں سے ایسا ہو کہ ذراسی چشم نمائی ہی اس کو شر مندہ کر دیتی ہے۔" ذرا سا غور سے اس کے غلط کام کو دیکھا تو وہ اس کو شر مندہ کر دے اور وہ اپنی اصلاح کرلے۔" اور اس کی اصلاح کا موجب ہوتی ہے تو اس کو سخت سزا مناسب نہیں۔" بعض صرف اشارے سے سمجھ جاتے ہیں اس لئے ان کو کچھ کہنا بھی نہیں پڑتا۔ان کو دیکھنے سے ہی ان کی اصلاح ہو جاتی ہے " مگر دو سر اعمد أشرارت کرتا ہے اس کو عفو کریں تو بگڑتا ہے۔اس کو سزا ہی دی جاوے تو تبھی ٹھیک ہے۔" تو بتاؤ مناسب حکم وہ ہے جو قرآن کریم نے دیا ہے یاوہ جو انجیل پیش کرتی ہے ؟ قانون قدرت کیا چاہتا ہے ؟ وہ تقسیم ورؤیت محل چاہتا ہے۔یہ تعلیم کہ عفو سے اصلاح مذ نظر ہو ایسی تعلیم ہے جس کی نظیر نہیں اور اسی پر آخر متمدن انسان کو چلنا پڑتا ہے اور یہی تعلیم ہے جس پر عمل کرنے سے انسان میں قوت اجتہاد اور تدبر اور فراست بڑھتی ہے۔گویا یوں کہا گیا ہے کہ ہر طرح کی شہادت سے دیکھو اور فراست سے غور کرو"۔اب کہتے ہیں جی اسلام پابندیاں لگا دیتا ہے، غور پہ روک دیتا ہے۔آپ نے فرمایا کہ یہ جو چیزیں ہیں اس ایک حکم میں ہی دیکھ لو۔کیسا حکم ہے کہ اس سے تدبر اور فراست کی قوت بڑھتی ہے۔اجتہاد کی قوت پید اہوتی ہے۔فرمایا کہ " اگر عفو سے فائدہ ہو تو معاف کرو لیکن اگر خبیث اور شریر ہے تو پھر جَزَؤُا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مثْلُهَا پر عمل کرو اسی طرح پر اسلام کی دوسری پاک تعلیمات ہیں جو ہر زمانے میں روز روشن کی طرح ظاہر ہیں۔" (الحکم جلد 4۔نمبر 14 مورخہ 17 اپریل 1900 صفحہ 5 و6۔بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد 4 صفحہ 109) پس ان دو باتوں کو ہمیں ہمیشہ سامنے رکھنا چاہئے اور اس لئے سامنے رکھنا چاہئے کہ ہم نے اصلاح کرنی ہے اور برائیوں کو روکنا ہے۔معاشرے میں امن اور سلامتی کی فضا پیدا کرنی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ خدا تعالیٰ کو راضی کرنا ہے کیونکہ وہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔اللہ تعالیٰ ہمیں قرآنی احکامات کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔نمازوں کے بعد میں ایک جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا جو مکرم بلال محمود صاحب ولد مکرم ممتاز احمد صاحب سندھی دارالیمن غربی شکر ربوہ کا ہے۔بلال محمود صاحب ابن ممتاز سندھی صاحب مرحوم کو مورخہ 11 / جنوری 2016ء کی رات کو ربوہ میں شہید کر دیا گیا۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔رات کے وقت اپنے گھر جارہے تھے کہ