خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 58 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 58

خطبات مسرور جلد 14 58 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 جنوری 2016 ایسے قانون نہ بناؤ، ایسے فیصلے نہ کرو جن سے بے چینیاں پید اہوں بلکہ وہ فیصلے کر وجو بہتر ہوں، معاشرے کے لئے بہتر ہوں، اس شخص کے لئے بہتر ہوں۔اور ایسے فیصلے جو ہوں گے پھر اس سے خدا تعالیٰ بھی راضی ہو گا۔بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : اسی طرح ہماری اخلاقی حالت بھی حسب موقع تبدیلی کو چاہتی ہے۔ایک وقت رعب دکھلانے کا مقام ہو تا ہے۔وہاں نرمی اور در گزر سے کام بگڑتا ہے۔اور دوسرے وقت نرمی اور تواضع کا موقع ہو تا ہے اور وہاں رعب دکھلانا سفلہ پن سمجھا جاتا ہے۔غرض ہر ایک وقت اور ہر ایک مقام ایک بات کو چاہتا ہے۔پس جو شخص رعایت مصالح اوقات نہیں کرتاوہ حیوان ہے نہ انسان اور وحشی ہے نہ مہذب (نسیم دعوت۔روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 437-438) موقع اور محل اور وقت کی مصلحت کے مطابق کام کرنے کے لئے آپ نے قانون قدرت کے مطابق مثال دی ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا۔غذاؤں میں توازن بھی ضروری ہے اور ایک ہی قسم کی غذائیں انسان استعمال نہیں کرتا۔آجکل کے بھی جو نیوٹریشن (Nutrition) کے ماہر ہیں اپنے مریضوں کو بڑے بڑے چارٹ بنا کر دیتے ہیں کہ اس کے مطابق غذا کھاؤ اور اس سے ہی، یعنی غذا سے ہی علاج ہوتے ہیں۔اسی طرح موسمی حالات کے مطابق ہمارے کپڑے ہیں۔تو بہر حال آپ نے فرمایا کہ یہ قانون قدرت اخلاقی حالت پر بھی حاوی ہے۔فرمایا کہیں تو نرمی اور در گذر سے کام بگڑتا ہے۔کہیں رعب دکھانے سے، سختی کرنے سے کام بگڑتا ہے۔پس انسان کی اس فطرت کو ہر جگہ لاگو کرنے کی ضرورت ہے کہ جو تبدیلیاں ہیں اس کی طبیعت کے مطابق ہوں۔اصلاح کے لئے جو تجویز کیا گیا ہو وہ کسی بھی انسان کی طبیعت کے مطابق ہو اور یہی انسان اور حیوان میں فرق ہے۔پھر ایک جگہ آپ نے فرمایا کہ: " قرآن شریف نے بے فائدہ عفو اور درگزر کو جائز نہیں رکھا۔کیونکہ اس سے انسانی اخلاق بگڑتے ہیں اور شیر ازہ نظام درہم برہم ہو جاتا ہے بلکہ اس عفو کی اجازت دی ہے جس سے (چشمہ مسیحی روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 346 حاشیہ) کوئی اصلاح ہو سکے"۔پس یہ بہت اہم بات ہے۔عفو اور در گذر اگر بلاوجہ ہو تو نظام درہم برہم ہو جاتا ہے اور انسان کے اندر بے قیدی پیدا ہو جاتی ہے۔اپنی حدود سے باہر نکلنا شروع ہو جاتا ہے۔نظام قائم نہیں رہتا۔پس جن کو اصلاح کے لئے سزا ملتی ہے وہ بجائے ڈھٹائی دکھانے کے اس بات کی طرف زیادہ توجہ دیں کہ ہم نے اپنی اصلاح کس طرح کرنی ہے۔اس کے لئے استغفار کریں اور اپنی اصلاح کریں۔جماعت میں کوئی سزا کسی انتقام کی وجہ سے نہیں دی جاتی جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا۔اصلاح کے لئے دی جاتی ہے اور یہی کوشش ہونی چاہئے اور ہوتی ہے۔صرف عہدیداروں کے لئے ہی یہ نہیں ہے۔صرف