خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 57 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 57

خطبات مسرور جلد 14 57 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 جنوری 2016 بڑا کھول کے بتایا کہ یہ ایسی خوبصورت تعلیم ہے جو کسی اور مذہب میں نہیں۔آپ نے فرمایا کہ : " اگر کوئی تمہیں دکھ پہنچاوے مثلاً دانت توڑ دے یا آنکھ پھوڑ دے تو اس کی سزا اسی قدر بدی ہے جو اس نے کی لیکن اگر تم ایسی صورت میں گناہ معاف کر دو کہ اس معافی کا کوئی نیک نتیجہ پید اہو اور اس سے کوئی اصلاح ہو سکے۔یعنی مثلاً مجرم آئندہ اس عادت سے باز آجائے اصلاح ہو جائے، مجرم آئندہ باز آجائے تو اس صورت میں معاف کرنا ہی بہتر ہے اور اس معاف کرنے کا خد اسے اجر ملے گا۔اب دیکھو اس آیت میں دونوں پہلوؤں کی رعایت رکھی گئی ہے۔اور عفو اور انتظام کو مصلحت وقت سے وابستہ کر دیا گیا ہے۔" مصلحت وقت یہ ہے کہ موقع اور محل کے مطابق کام ہو" سو یہی حکیمانہ مسلک ہے جس پر نظام عالم کا چل رہا ہے۔رعایت محل اور وقت سے گرم اور سرد دونوں کا استعمال کرنا یہی عقلمندی ہے۔جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ ہم ایک ہی قسم کی غذا پر ہمیشہ زور نہیں ڈال سکتے بلکہ حسب موقعہ گرم اور سرد غذائیں بدلتے رہتے ہیں گرمیوں میں خوراک کے لئے ہماری اور ترجیحات ہوتی ہیں۔سردیوں میں اور ہوتی ہیں۔بیلنسڈ ڈائٹ (Balanced Diet) کی باتیں کی جاتی ہیں تو فرمایا کہ یہ جو ہر جگہ قدرت کا اصول ہے یہاں بھی کام آنا چاہئے فرمایا " اور جاڑے اور گرمی کے وقتوں میں کپڑے بھی مناسب حال بدلتے رہتے ہیں۔پس اسی طرح ہماری اخلاقی حالت بھی حسب موقع تبدیلی کو چاہتی ہے۔جس طرح قدرت کا قانون یہ ہے کہ ہماری خوراک بھی اولتی بدلتی رہے۔اور خوراک موسموں کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے پیدا بھی فرمائی ہے۔اسی طرح گرمی سردی کے موسم میں کپڑوں کا ادلنا بدلنا ہے یہ ساری چیزیں بھی قانون قدرت کے مطابق ہیں۔فرمایا اسی طرح ہماری اخلاقی حالت بھی حسب موقع تبدیلی کو چاہتی ہے۔لباس کے بارے میں ضمنا میں یہ بھی بتادوں کہ گرمیوں میں یہاں تو عورتوں کا خاص طور پہ بالکل ننگا لباس ہو جاتا ہے اور سردیوں میں سکارف سے سر بالکل لپیٹا ہوتا ہے، کوٹ پہنا ہو تا ہے اور بڑا مناسب لباس ہوتا ہے۔لیکن یہی لباس اگر مسلمان عورتیں، حجاب لینے والی عورتیں سردیوں کا لباس تو نہیں لیکن سر ڈھانکنے کی حد تک گرمیوں میں سر ڈھانک لیں تو ان کے خلاف یہ حد لگ جاتی ہے کہ یہ عورتوں کے حقوق ختم کئے جار ہے ہیں بلکہ اب اس میں یہاں تک حکومت نے دخل اندازی شروع کر دی ہے اور یہ بھی ایک دوسری طرح کی دخل اندازی ہے جس کا مقصد اصلاح نہیں بلکہ نا انصافی ہے۔پچھلے دنوں میں وزیر اعظم صاحب کا بیان تھا کہ ہم سوچ رہے ہیں کہ اگر عور تیں یا کام کرنے والی عورتیں جو کسی بھی پیشہ کی ہیں پبلک جگہوں پر حجاب لے کر آئیں گی تو ان کو کام سے نکال دیا جائے گا۔تو یہ جو چیزیں اور دنیاوی قانون ہیں یہ ایک دوسری طرف چلے گئے ہیں، ایک دوسری extreme پر چلے گئے ہیں جس سے پھر فساد پیدا ہوتا ہے، بے چینیاں پیدا ہوتی ہیں۔اسلام کہتا ہے کہ