خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 56 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 56

خطبات مسرور جلد 14 56 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 جنوری 2016 آپ نے اس حوالے سے جو ارشاد فرمایا ہے اس میں مختلف رنگ اور مختلف نصیحت ہے۔ایک جگہ آپ نے فرمایا کہ: بدی کا بدلہ اسی قدر بدی ہے جو کی گئی لیکن جو شخص عفو کرے اور گناہ بخش دے اور اس عفو سے کوئی اصلاح پیدا ہوتی ہو، نہ کوئی خرابی تو خدا اس سے راضی ہے اور اسے اس کا بدلہ دے گا۔پس قرآن کے رُو سے نہ ہر یک جگہ انتقام محمود ہے نہ انتقام لینا قابل تعریف ہے " اور نہ ہر یک جگہ عفو قابل تعریف ہے۔بلکہ محل شناسی کرنی چاہئے اور چاہئے کہ انتقام اور عفو کی سیرت بپابندی محل اور مصلحت ہو نہ بے قیدی کے رنگ میں۔یہی قرآن (کشتی نوح - روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 30) کا مطلب ہے۔" عہدیداران کو خیال رکھنا چاہئے پس فرمایا خدا اس شخص سے راضی ہوتا ہے جس کی نیت نیک ہے اور اس کے فعل اور کام کا مقصد اصلاح ہے۔دیوث شخص کے معاف کرنے سے خدا راضی نہیں ہو گا۔نہ اس سے راضی ہوتا ہے جو انتقام کی نیت رکھتا ہو۔یہ دونوں چیزیں سامنے ہونی چاہئیں۔نہ اتنی نرمی ہو کہ بالکل بے غیرت ہو جائے، اس سے بھی اللہ تعالیٰ راضی نہیں ہو تا۔اور نہ انتقام کی نیت ہو۔وہ بھی اللہ تعالیٰ کو ناراض کرتی ہے۔پس ہر دو حدود کو سامنے رکھتے ہوئے معافی اور سزا کے فیصلے کرنے چاہئیں۔اس بارے میں جماعتی عہدیداروں اور نظام کو بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہئے۔عموما تو خیال رکھا جاتا ہے لیکن بعض کے خلاف جو فیصلے ہوتے ہیں یا سفارش مجھے آتی ہے تو میں یہ تو نہیں کہتا کہ انتقام کی وجہ سے ہوتی ہے لیکن یہ ضرور بعض دفعہ ہوتا ہے کہ سفارش کرنے والے کا طبعار جهان سختی کی طرف ہو تا ہے اور بعض ضرورت سے زیادہ نرمی اور معافی کا رجحان رکھتے ہیں جس سے پھر خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔پس نہ سزا دینا پسندیدہ ہے ، نہ معاف کرنا قابل تعریف ہے۔اصل چیز اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہے اور یہ اُس وقت حاصل ہوتی ہے جب اصلاح مقصد ہو اور اس کے لئے متعلقہ محکموں کو چاہئے کہ وہ کوشش کریں چاہے وہ امور عامہ ہے یا قضا ہے کہ بڑی گہرائی میں جا کر سفارش اور فیصلے کرنے چاہئیں تا کہ وہ حقیقی نظام اور حالات ہم اپنے میں اور جماعت میں پیدا کر سکیں جو خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے ہوں اور اس کے لئے خدا تعالیٰ سے دعا اور مددمانگنے کی بھی ضرورت ہے۔جب بھی کوئی فیصلہ ہو دعا کے ساتھ ہو اور پھر خلیفہ وقت کے پاس سفارش ہونی چاہئے تاکہ ہر قسم کے بداثرات سے وہ شخص بھی محفوظ رہے جس کے خلاف شکایت کی جارہی ہے اور نظام جماعت بھی محفوظ رہے اور وہ فیصلہ جماعت میں کسی بھی قسم کی بے چینی کا باعث نہ بنے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک اور جگہ اپنی کتاب نسیم دعوت، میں اس مضمون کو بیان فرماتے ہوئے کہ اسلام کے معترضین اور غیر مسلموں کو اسلام کی اس خوبصورت تعلیم کا علم ہونا چاہئے۔آپ نے یہ