خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 55
خطبات مسرور جلد 14 دنیا کے مسائل کا حل 55 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 جنوری 2016 پس اسلام کی تعلیم ہی ہے جو ہر زمانے میں دنیا کے مسائل کا حل ہے چاہے وہ سزا کے لئے ہوں یا دوسرے مسائل ہوں۔اسلام کہتا ہے کہ جب تم ایک دفعہ معاف کر دو تو پھر کینوں اور بعضوں کو بھی دل سے نکال دو۔آپ نے فرمایا بعض لوگوں کے دلوں میں اتنے کینے ہوتے ہیں کہ دادوں پڑدادوں کے زمانے کی باتیں بھی یاد رکھتے ہیں اور معاف نہیں کرتے۔آپ نے فرمایا " یہ مومن کی شان نہیں ہے کہ کینے دلوں میں رکھے جائیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا اُسوہ اس بارہ میں ہمارے سامنے ہے۔جنگ اُحد میں ابو سفیان کی بیوی ہند نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی لاش کا مثلہ کیا۔ناک کان اور دوسرے اعضاء کاٹ کر لاش کا حلیہ بگاڑ دیا۔ان کا کلیجہ نکال کر چبا لیا۔ظلم اور بربریت کی انتہا کی۔دوسری طرف اس سب کے باوجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ کیا ہے کہ فتح مکہ پر ہند نقاب اوڑھ کر آپ کی مجلس میں آگئی۔کھلے طور پر آنہیں سکتی تھی کیونکہ اس جرم کی وجہ سے اس کے لئے بھی قتل کی سزا مقرر ہوئی ہوئی تھی۔آپ کی مجلس میں آکر اس نے بیعت کی۔مسلمان ہو گئی اور اس دوران بعض استفسارات کئے۔بعض سوالات پوچھے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی آواز پہچان گئے۔آپ نے پوچھا کیا تم ابوسفیان کی بیوی ہند ہو ؟ اس نے کہا ہاں یارسول اللہ۔لیکن یارسول اللہ ! اب تو میں دل سے مسلمان ہو چکی ہوں۔جو پہلے ہو چکا اس سے در گزر فرمائیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے معاف فرما دیا۔اس کا اس پر ایسا اثر ہوا کہ مزید اس کی کایا پلٹ گئی۔گھر جا کر اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ضیافت کے لئے کھانا تیار کیا اور دو بکرے بھون کر آپ کی خدمت میں بھیجے اور کہا کہ آج جانور کم ہیں اس لئے یہ معمولی تحفہ بھیج رہی ہوں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دعا دی کہ اے اللہ ! ہند کی بکریوں میں برکت ڈال دے۔چنانچہ کہتے ہیں اس کے نتیجہ میں اس کا اتنابڑا ریوڑ ہو گیا تھا کہ سنبھالا نہیں جاتا تھا۔(تاريخ الخميس لامام حسين بن محمد الجزء الثاني صفحه 490 دار الكتب العلمية بيروت 2009ء) حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ایک طبقہ تو وہ ہے جو معاف کرنا جانتا ہی نہیں اور جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے دادوں پڑدادوں کے وقت کی رنجشیں بھی یادر کھی ہوئی ہیں۔اور دوسری طرف ایسے بے غیرت اور دیوث لوگ ہیں کہ نیک چلنی پر ایک داغ ہیں۔معافی کے نام پر بے غیرتی دکھاتے ہیں۔پس بے غیرتی بھی نہیں ہونی چاہئے اور ظلم بھی نہیں ہونا چاہئے۔اگر کوئی کسی کی بیٹی بہن کی عزت پر حملہ کرتا ہے، عصمت پر حملہ کرتا ہے تو قانون کے دائرے میں کارروائی کرنی چاہئے۔وہاں معافی کا سوال نہیں ہے۔پس معافی اور بے غیرتی میں فرق بھی معلوم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے لیکن قانون ہاتھ میں نہیں لینا یہ بہر حال شرط ہے۔جیسا کہ میں نے کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے متعدد جگہ اس حوالے سے وضاحت فرمائی ہے۔آپ کے بعض مزید حوالے بھی پیش کرتا ہوں۔بظاہر حوالوں کو دیکھنے سے یہ لگتا ہے کہ ایک ہی مضمون نظر کے سامنے آرہا ہے لیکن ہر موقع پر