خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 54 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 54

خطبات مسرور جلد 14 54 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 جنوری 2016 اکثریت بے شک خود حفاظتی کا انتظام کرتی ہے اگر ایسی لاقانونیت کا دور ہو لیکن کچھ عدم تحفظ کی وجہ سے اگر لا قانونیت نہ بھی ہو اور عدم تحفظ ہو تو پھر خود ہی قانون بھی اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کرتے ہیں۔بد قسمتی سے باوجود ایسی خوبصورت تعلیم کے ہمیں ایسی صورتحال مسلمان ممالک میں اکثر نظر آتی ہے۔سزا اور معافی کے غیر منصفانہ عمل نے مجرموں کو پیدا کرنے میں ایک کردار ادا کیا ہوا ہے اور جس کی وجہ سے پھر دوسرے بھی وہی حرکتیں کرنی شروع کر دیتے ہیں۔حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ سزا دینے اور معاف کرنے میں یہ ایک بہت بڑی بات پیش نظر ہوئی چاہئے کہ سزا یا معافی سے معاشرہ کیا اثر لیتا ہے۔اگر معافیاں مجرموں کو دلیر کر رہی ہیں تو پھر سزاؤں کی ضرورت ہے نہ کہ معافیوں کی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک موقع پر اسلام کی خوبصورت تعلیم کا توریت اور انجیل سے مقابلہ کرتے ہوئے فرمایا کہ: نجیل میں لکھا ہے کہ تو بدی کا مقابلہ نہ کر۔" فرمایا کہ "انجیل میں لکھا ہے کہ تو بدی کا مقابلہ نہ کر۔غرض انجیل کی تعلیم تفریط کی طرف جھکی ہوئی ہے اور بجز بعض خاص حالات کے ماتحت ہونے کے انسان اس پر عمل کر ہی نہیں سکتا۔دوسری طرف توریت کی تعلیم کو دیکھا جاوے تو وہ افراط کی طرف جھکی ہوئی ہے اور اس میں بھی صرف ایک ہی پہلو پر زور دیا گیا ہے کہ جان کے بدلے جان، آنکھ کے بدلے آنکھ اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت توڑ دیا جاوے۔اس میں عفو اور در گذر کا نام تک بھی نہیں لیا گیا۔اصل بات یہ ہے کہ یہ کتابیں مختص الزمان اور مختص القوم ہی تھیں"۔یعنی ایک خاص زمانے کے لئے اور ایک خاص قوم کے لئے تھیں مگر قرآن شریف نے ہمیں کیا پاک راہ بتائی ہے جو افراط اور تفریط سے پاک اور عین فطرت انسانی کے مطابق ہے۔مثلاً مثال کے طور پر قرآن شریف میں فرمایا ہے جَزَوا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللهِ (الشوری: 41) یعنی جتنی بدی کی گئی ہو اسی قدر بدی کرنی جائز ہے۔" یعنی اتنی سزا دینی جائز ہے " لیکن اگر کوئی معاف کر دے اور اس معافی میں اصلاح مد نظر ہو بے محل اور بے موقع عفو نہ ہو بلکہ بر محل ہو تو ایسے معاف کرنے والے کے واسطے اس کا اجر ہے جو اسے خدا سے ملے گا۔دیکھو کیسی پاک تعلیم ہے نہ افراط، نہ تفریط انتقام کی اجازت ہے مگر معافی کی تحریص بھی موجود ہے۔" بدلہ لینے کا حکم ہے لیکن ساتھ ہی معافی کے لئے توجہ دلائی گئی ہے بلکہ حرص دلائی گئی ہے کہ اس سے تمہیں اللہ تعالیٰ کے ہاں انعام ملے گا فرمایا کہ " بشرط اصلاح یہ ایک تیسر ا مسلک ہے جو قرآن شریف نے دنیا کے سامنے رکھا ہے۔اب ایک سلیم الفطرت انسان کا فرض ہے کہ ان میں خود موازنہ اور مقابلہ کر کے دیکھ لے کہ کون سی تعلیم فطرت انسانی کے مطابق ہے اور کونسی تعلیم ایسی ہے کہ فطرت صحیح اور کانشنش اسے دھکے دیتی ہے۔" (ملفوظات جلد 10 صفحہ 401-402)