خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 53 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 53

خطبات مسرور جلد 14 53 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 جنوری 2016 ہے کہ بڑی تبدیلی پید اہوئی۔جو اسلام کے دشمن تھے ، جو غلط کام کرنے والے تھے ، اپنی اصلاح کے بعد نیکیوں کے کرنے والے بن گئے اور اسلام کی خدمت کرنے والے بن گئے۔پس اسلام ایک ایسا سمویا ہوا مذ ہب ہے جو ہر زمانے میں اپنے احکامات کی اہمیت منواتا ہے۔مجرم کے حق میں جو بہتر ہے وہ کرو۔آجکل جو لوگ انسانی حقوق کے علمبر دار بنے پھرتے ہیں وہ ایک طرف چلے گئے۔کسی کا کتنا ہی بڑا قصور ہو، انسانی ہمدردی کے نام پر مجرموں کو بھی اتنی شہ دی جاتی ہے کہ بہت سے جو مجرم ہیں ان میں جرموں کا احساس ہی مٹ گیا ہے۔قاتل ہیں، پیشہ ور قاتل ہیں یا تکبر و غرور میں اتنے بڑھے ہوئے ہیں کہ انہیں اپنے سوا کسی کی زندگی کی کوئی اہمیت نظر نہیں آتی۔ایسے لوگوں کی سزا تو قتل ہی ہونی چاہئے سوائے اس کے کہ مقتول کے ورثاء خود معاف کر دیں۔لیکن مغربی دنیا میں اکثر جگہ انسانی حقوق کے نام پر یہ سزا نہیں دی جاتی۔ملکوں نے اپنے قوانین میں ترمیم کر کے اس سزا کو ختم کر دیا ہے جبکہ ایسے لوگوں کی اصلاح بھی نہیں ہو رہی ہوتی اور وہ ظلم میں بڑھتے چلے جاتے ہیں۔یا پھر دوسری انتہا نظر آتی ہے کہ جن میں مسلمان ممالک کے سر بر اہان کے خلاف مقامی لوگوں نے تحریک چلائی اور انہیں ان کے تخت سے اتار دیا اور پھر بجائے اس کے کہ اگر وہ سزاوار ہیں تو ان پر مقدمہ چلا کر ان کی جو بھی سزا بنتی ہے انہیں دی جائے۔انہیں مقامی لوگوں کی مدد کرتے ہوئے ظالمانہ طور پر مارا گیا اور یہ مقامی لوگ جب اپنے ان لیڈروں پر ظلم کرتے ہیں تو پیچھے بعض طاقتوں کی شہ ہوتی ہے جس پر یہ سب کچھ کیا جارہا ہوتا ہے۔اسلام تو ہر قسم کی افراط اور تفریط سے روکتا ہے اور سزا کے لئے اگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا تو پھر اس میں ہر امیر غریب کے ساتھ ایک جیسا سلوک ہے۔اور فرمایا اتنی ہی سزا دو جتنا اس نے کیا اور سزا کے کچھ اصول و قواعد بناؤ۔اور اس پر ہم دیکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مدینہ میں حکومت قائم کی اور اس کے بعد خلفاء نے اس پر عمل کر کے دکھایا کہ کس طرح سزاملنی چاہئے اور سزا کا مقصد کیا ہے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ فرمایا کہ صرف یہی نہیں دیکھنا کہ مجرم کے حق میں کیا بہتر ہے۔صرف مجرم کا ہی خیال نہیں رکھا جاتا بلکہ بعض دفعہ یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ عام معاشرے میں کیا بہتر ہے۔چھوٹی چیز کو بڑی کے لئے قربان کرنا یا معاشرے کے وسیع تر مفاد کو سامنے رکھنا یہ بعض دفعہ ضروری ہو جاتا ہے۔اس لئے کسی بھی سزا کے فیصلے کے وقت یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ معاشرے پر مجموعی طور پر کیا اثر پڑ رہا ہے۔بعض دفعہ معاف کرنا معاشرے میں غلط تاثر پیدا کرتا ہے کہ دیکھو اتنا بڑا مجرم ایک غلط کام کر کے پھر بچ گیا۔تو شرارتی طبع لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم بھی غلط کام کر کے معافی مانگ کر بچ جائیں گے۔یہ صور تحال پھر مجرموں کو اپنے برے افعال کرنے کے لئے جرات پیدا کرتی ہے اور تقویت دیتی ہے۔اسی طرح شرفاء خوفزدہ ہوناشروع ہوتے ہیں یا عمومی طور پر لوگ بے چینی محسوس کرتے ہیں اور اس بے چینی کو دور کرنے کے لئے پھر اپنی ترکیبیں سوچتے ہیں۔