خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 52
خطبات مسرور جلد 14 52 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 جنوری 2016 بدی کی جزا اسی قدر بدی ہے جو کی گئی ہو۔" اس آیت کی روشنی میں "لیکن جو شخص گناہ کو بخش دے اور ایسے موقع پر بخشے کہ اس سے کوئی اصلاح ہوتی ہو۔کوئی شر پیدا نہ ہو تا ہو۔یعنی عین عفو کے محل پر ہو۔نہ غیر محل پر تو اس کا وہ بدلہ پائے گا۔" یعنی بخشنے والا اللہ تعالیٰ کے ہاں اجر پائے گا فرمایا کہ " اس آیت سے ظاہر ہے کہ قرآنی تعلیم یہ نہیں کہ خواہ نخواہ اور ہر جگہ شر کا مقابلہ نہ کیا جائے " بعض جگہ شر کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے" اور شریروں اور ظالموں کو سزا نہ دی جائے۔بلکہ یہ تعلیم ہے کہ دیکھنا چاہئے کہ وہ محل اور موقعہ گناہ بخشنے کا ہے یا سزا دینے کا۔پس مجرم کے حق میں اور نیز عائلہ خلائق کے حق میں جو کچھ فی الواقعہ بہتر ہو وہی صورت اختیار کی جائے۔" فرمایا کہ " بعض وقت ایک مجرم گناہ بخشنے سے تو بہ کرتا ہے اور بعض وقت ایک مجرم گناہ بخشنے سے اور بھی دلیر ہو جاتا ہے۔پس خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اندھوں کی طرح صرف گناہ بخشنے کی عادت مت ڈالو۔" یہی نہیں ہے کہ بغیر دیکھے ہم نے گناہ بخشتے ہیں اور صرف یہی ایک کام رہ گیا ہے بلکہ اس حکم پر غور کرو کہ اصلاح تمہارے مد نظر ہو فرمایا " بلکہ غور سے دیکھ لیا کرو کہ حقیقی نیکی کس بات میں ہے آیا بخشنے میں یا سزا دینے میں۔پس جو امر محل اور موقع کے مناسب ہو وہی کرو۔" فرمایا کہ " افراد انسانی کے دیکھنے سے صاف ظاہر ہے کہ جیسے بعض لوگ کینہ کشی پر بہت حریص ہوتے ہیں یہاں تک کہ دادوں پر دادوں کے کینوں کو یاد رکھتے ہیں۔ایسا ہی بعض لوگ عفو اور در گذر کی عادت کو انتہا تک پہنچا دیتے ہیں اور بسا اوقات اس عادت کے افراط سے دیوٹی تک نوبت پہنچ جاتی ہے اور ایسی قابل شرم حلم اور عفو اور در گذر ان سے صادر ہوتے ہیں جو سراسر حمیت اور غیرت اور عفت کے بر خلاف ہوتے ہیں بلکہ نیک چلنی پر داغ لگاتے ہیں اور ایسے عفو اور در گذر کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سب لوگ تو بہ توبہ کر اٹھتے ہیں۔انہیں خرابیوں کے لحاظ سے قرآن شریف میں ہر ایک خُلق کے لئے محل اور موقع کی شرط لگا دی گئی ہے اور ایسے خُلق کو منظور نہیں رکھا جو بے محل صادر ہو۔" پس یہ بنیادی بات اسلام کی سزاؤں کے فلسفے میں ہے کہ نیکی کیا ہے۔یہ تم نے تلاش کرنی ہے اور اصلاح کس طرح ہو سکتی ہے۔بعض دفعہ معاف کرنا نیکی بن جاتا ہے جس سے اصلاح ہو گئی لیکن بعض دفعہ معاف کرنا برائی بن جاتا ہے کہ غلطی کرنے والا اپنی غلطیوں پر اور بھی شیر ہو جاتا ہے۔اسی طرح بعض دفعہ سزا دینا نیکی بن جاتا ہے۔یہ اس شخص پر نیکی کرنا بھی ہے کیونکہ سزا کے ذریعہ سے اسے برائیوں سے روکنے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ وہ برائیوں سے بچ کر اپنی آئندہ زندگی کو برباد ہونے سے بچائے۔جو دو مثالیں میں نے دیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جنہیں معاف فرمایا ان میں ہمیں نظر آتا اسلامی اصول کی فلاسفی۔روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 351-352)