خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 51 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 51

خطبات مسرور جلد 14 51 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 جنوری 2016 اسی طرح ایک روایت میں آتا ہے کہ ایک شاعر کعب بن زہیر تھا جو مسلمان خواتین کے بارے میں بڑے گندے اشعار کہا کر تا تھا اور ان کی عصمت پر حملے کیا کرتا تھا۔اس کی بھی سزا کا حکم جاری ہو چکا تھا۔جب مکہ فتح ہوا تو کعب کے بھائی نے اسے لکھا کہ مکہ فتح ہو چکا ہے بہتر ہے کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معافی مانگ لو۔چنانچہ وہ مدینے آکر اپنے ایک جاننے والے کے ہاں ٹھہرا اور فجر کی نماز مسجد نبوی میں جاکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ادا کی اور پھر اپنا تعارف کرائے بغیر کہا کہ یار سول اللہ کعب بن زہیر تائب ہو کر آیا ہے اور معافی چاہتا ہے۔اگر اجازت ہو تو اسے آپ کی خدمت میں پیش کیا جائے۔آپ کیونکہ اس کی شکل سے واقف نہیں تھے۔اسے جانتے نہیں تھے یا ہو سکتا ہے اس وقت کپڑا اوڑھا ہو اور باقی صحابہ نے بھی نہ پہچانا ہو۔بہر حال وہاں کسی نے اسے پہچانا نہیں۔اس لئے آپ نے فرمایا ہاں آجائے تو اس نے کہا کہ میں ہی کعب بن زھیر ہوں۔اس پر ایک انصاری اٹھے اور اسے قتل کرنے لگے کیونکہ اس کے جرموں کی وجہ سے اس پر بھی قتل کی حد لگ چکی تھی۔لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کمال شفقت فرماتے ہوئے فرمایا کہ اب اسے چھوڑ دو کیونکہ یہ معافی کا خواستگار ہو کر آیا ہے۔پھر اس نے ایک قصیدہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک خوبصورت چادر انعام کے طور پر اسے دے دی۔( تاريخ الخميس لامام حسین بن محمد الجزء الثالث باب اسلام كعب بن زهير صفحه 87- دار الكتب العلمية بيروت 2009ء) سزا اور معافی کا فلسفہ پس یہ دشمن جس کی سزا کا حکم جاری ہو چکا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار سے نہ صرف جان بخشوا کر گیا بلکہ انعام لے کر بھی لوٹا۔تو اس طرح کے اور بہت سارے واقعات ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ملتے ہیں۔جب آپ نے اصلاح کے بعد اپنے ذاتی دشمنوں کو بھی معاف فرمایا۔اپنے قریبی رشتہ داروں کے دشمنوں کو بھی معاف فرمایا اور اسلام کے دشمنوں کو بھی معاف فرمایا۔لیکن جہاں اصلاح کے لئے سزا کی ضرورت تھی، اگر سزا کی ضرورت پڑی تو آپ نے سزا بھی دی۔تو اس اہم حکم کی اہمیت کے پیش نظر اصل مقصد یہ ہے کہ تم نے اصلاح کرنی ہے نہ کہ انتقام لینا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سورۃ شوری کی اس 41 ویں آیت کی اپنی کتب اور ارشادات میں کئی جگہ وضاحت فرمائی ہے۔آپ کی تقریباً 13 کتب میں اس کے حوالے نظر آتے ہیں یا شاید اس سے بھی زیادہ ہوں۔اور ان میں اکیس بائیس جگہ پر مختلف جگہوں پر اس حوالے سے آپ نے بات کی ہے۔اسی طرح اپنی مجالس میں بھی کئی جگہ اس کا ذکر فرمایا۔اسلامی اصول کی فلاسفی میں آپ نے سزا اور معافی کا فلسفہ اور روح بیان کرتے ہوئے فرمایا