خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 50
خطبات مسرور جلد 14 50 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 جنوری 2016 حکومتی معاملات میں بھی بلکہ بین الا قوامی معاملات میں، معاشرے کی اصلاح کے لئے بھی یہ بنیاد ہے۔جیسا کہ میں نے بتایا کسی مجرم کو سزا دینے کا اصل مقصد اصلاح ہے اور اخلاقی بہتری ہے۔پس اسلام کہتا ہے کہ اس بات کو سامنے رکھتے ہوئے صرف سزا پر زور نہ دو بلکہ اصلاح پر زور دو۔اگر تو سمجھتے ہو کہ معاف کرنے سے اصلاح ہو گی تو معاف کر دو۔اگر حالات و واقعات یہ کہتے ہیں کہ سزا دینے سے اصلاح ہو گی تو سزا دو۔لیکن سزا میں اس بات کا بہر حال خاص طور پر خیال رکھنا ہو گا کہ سزا جرم کی مناسبت سے ہو وگرنہ اگر جرم سے زیادہ سزا ہے تو یہ ظلم اور زیادتی ہے اور ظلم اور زیادتی کو خدا تعالیٰ پسند نہیں کرتا۔پس اسلام میں پہلے مذاہب کی طرح افراط اور تفریط نہیں ہے۔اس کے اعلیٰ ترین نمونے ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں نظر آتے ہیں۔جب آپ نے دیکھا کہ مجرم کی اصلاح ہو گئی ہے تو اپنے انتہائی ظالم دشمن کو بھی معاف فرما دیا۔آپ پر ، آپ کی اولاد پر ، آپ کے صحابہ پر کیا کیا ظلم نہیں ہوئے لیکن جب دشمن معافی کا طالب ہوا اور خدا اور اس کے رسول کے حکم کے مطابق زندگی گزارنے کا عہد کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کچھ بھول کر معاف فرما دیا۔حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت زینب پر مکہ سے ہجرت کے وقت ایک ظالم شخص صبار بن اسود نے نیزہ سے قاتلانہ حملہ کیا۔وہ اس وقت حاملہ تھیں۔اس حملے کی وجہ سے آپ کو زخم بھی آئے اور آپ کا حمل بھی ضائع ہو گیا۔آخر کار یہ زخم آپ کے لئے جان لیوا ثابت ہوئے۔اس جرم کی وجہ سے اس شخص کے خلاف قتل کا فیصلہ دیا گیا۔فتح مکہ کے موقع پر یہ شخص بھاگ کر کہیں چلا گیا۔لیکن بعد میں جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم واپس مدینہ تشریف لے آئے تو ھبار مدینہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ میں آپ سے ڈر کر فرار ہو گیا تھا۔جرم میرے بہت بڑے بڑے ہیں۔میرے قتل کی سزا آپ دے چکے ہیں۔لیکن آپ کے عفو اور رحم کے حالات پتا چلے تو یہ چیز مجھے آپ کے پاس لے آئی ہے۔مجھ میں اتنی جرات پیدا ہو گئی کہ باوجود اس کے کہ مجھ پر سزا کی حد لگ چکی ہے لیکن آپ کا عفو، معاف کرنا اتنا وسیع ہے کہ اس نے مجھ میں جرآت پیدا کی اور میں حاضر ہو گیا۔کہنے لگا کہ اے اللہ کے نبی ہم جاہلیت اور شرک میں ڈوبے ہوئے تھے۔خدا نے ہماری قوم کو آپ کے ذریعہ سے ہدایت دی اور ہلاکت سے بچایا۔میں اپنی زیادتیوں اور جرموں کا اعتراف کرتا ہوں۔میری جہالت سے صرفِ نظر فرمائیں۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی کے اس قاتل کو بھی معاف فرما دیا اور فرمایا جاھبار اللہ کا تجھ پر احسان ہے کہ اس نے تجھے اسلام قبول کرنے کی توفیق دی اور سچی توبہ کرنے کی توفیق دی۔(المعجم الكبير للطبرانی جلد 22 صفحه 431 مسند النساء ذکرسن زینب۔۔۔حدیث 1051) ( السيرة الحلبية جلد 3 صفحه 131-132 ذکر مغازيه صلى الله عليه وسلم فتح مكة۔۔۔دار الكتب العلمية بيروت2002ء)